تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 83 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 83

کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ظاہر ہے ان سب کا مسلمان ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعد از ظور ایمان لانے کی وجہ سے تو ہو نہیں سکتا کیونکہ ان کے سامنے قرآن مجید کی شکل میں نہ کامل شریعیت موجود تھی اور نہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت معرض وجود میں آئی تھی۔در اصل قرآنی محاورے کی رُو سے ان کا مسلمان قرار پانا صاف اشارہ کر رہا ہے کہ اسلام کے دو معنے ہیں۔ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والا مسلمان ہے اور دوسرے وہ بھی مسلمان ہے جو مطیع اور فرمانبردار ہو۔چنانچہ مسلمان کی موخر الذکر حیثیت کے اعتبار سے ہر و شخص جو مطیع اور فرمانبردار تھا خواہ وہ آدم کا فرمانبردار تھا یا نوے کا، ابراہیم کا فرمانبردار تھا یا موسی و عیسی کا وہ مسلمان ہی تھا۔اسلام کی ان دو حیثیتوں کو مزید واضح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ہم مسلمانوں کو دو قسم کا اسلام حاصل ہے ایک تو اس اعتبار سے ہم مسلمان ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کا نام ہی مسلم" رکھا گیا ہے دوسرے اطاعت و فرمانبرداری کی اس روح کے اعتبار سے بھی ہم مسلم ہیں کہ جو ہر نبی کے متبعین کے لئے دنیا میں وجہ امتیاز بنی پس تمام دوسرے انبیاء کی جماعتوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو ایک پیر فضیلت دی گئی ہے کہ وہ دوہرے مسلم ہیں۔انبیاء کی جماعتیں اطاعت و فرمانبرداری کے باعث مسلم ہوتی ہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ہمارا نام مسلم رکھا۔اس بارے میں یہ یا درکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالے جب کسی کا نام رکھتا ہے تو وہ بندوں کی طرح محض تفاؤل کے طور پر نہیں رکھتا وہ قادر و تو انا جب ارادہ کرتا ہے کہ کسی قوم کے افراد خاص خاص صفات کے حامل ہوں تب ہی وہ انہیں کوئی مخصوص نام عطا کہتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کا ہمیں مسلم کا لقب عطا فرمانا اس بات کا مقتضی ہے کہ ہم وہ صفات اپنے اندر پیدا کریں جن کا یہ نام متحمل ہے۔اس میں یہ اشار معمر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے اطاعت و فرمانبرداری کے اعلیٰ معیار پر قائم ہوتے ہوئے جب بھی دینی اور دنیوی اعتبار سے بڑھنے اور ترقی کرنے کی کوشش شروع کریں گے تو خدا انہیں اعلیٰ درجات سے ضرور نواز سے گا۔پس حقیقی اسلام کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کی روح ہمارے اندر اس طرح رچی