تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 79 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 79

اس نے نتیجے کو ہمارے تابع کرنے کے لئے کچھ قانون بنا دیئے ہیں۔خود فیصلہ کرنا بندے کے اختیار میں نہیں لیکن خدا کے ہاتھ کو پکڑ کر فیصلہ کر وانا بند سے کے ہاتھ میں ہے۔غور و فکر کی عادت سے کام لینے کے طریق واضح کرتے ہوئے حضور نے ایک اور مثال دی۔فرمایا اگر تم یہ سوچو کہ دنیا ہماری مخالفت کرتی ہے تو ساتھ ہی تمہیں یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ دنیا مخالفت کیوں کرتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ سچی تحریکوں کی مخالفت ہوتی ہی آئی ہے۔یہ ہے صحیح لیکن ساتھ ہی تمہیں یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا یہ مخالفتیں ہمیشہ ہمیش جاری رہتی ہیں ؟ کیا پہلوں نے ان مخالفتوں کو دبانے اور کم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں نکالا تھا ؟ کیا آدم ، نوح، ابراہیم اور موسی و عیسی نے ان مخالفتوں سے ہار مان لی تھی ؟ اگر انہوں نے ہار نہیں مانی تھی تو ہم کیوں ہار مانیں ؟ اور کیوں نہ ایسا رستہ نکالیں کہ جس سے یہ مخالفتیں آپ ہی ختم ہو جائیں۔اگر تم سوچتے تو تمہار سے سامنے خود راستے کھل جاتے۔ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی اپنی جگہ غور وفکر کی عادت ڈالے اور محض دوسروں کے فورد شکر پر تکیہ نہ کر ہے۔غور و شکر کی عادت پیدا کرنے کے طریقوں پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے حضور ایدہ اللہ نے بچپن ہی سے تربیت کرنے اور بالخصوص جو اس کو بیدار رکھنے کی اہمیت پر بہت زور دیا اور اس ضمن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زریں ہدایات نیز آئمہ کرام اور شاہان اسلام کے سبق آموز واقعات پیش کرنے کے بعد حضور نے واضح فرمایا کہ اگر جو اس بیدار ہوں تو انسان بہت سے خطرات سے پہنچے کہ اپنے لئے ترقی کے راستے پیدا کر سکتا ہے۔اس ضمن میں حضور نے سوچنے کی عادت ڈالنے کی طرف پھر توجہ دلائی اور فرمایا با وقار طریق پر سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالو تا کہ تم میں ایسی روح اور جذبہ پیدا ہو جائے کہ تم وقت آنے پر بڑی سے بڑی ذمہ داری اُٹھا سکو۔کام کرنے کا جذبہ قوم کو اُبھار دیتا ہے پھر کسی کے مرنے یا فوت ہونے سے حوصلے پست نہیں ہوتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ ان میں غور وفکر کی عادت پیدا کر کے ان میں جذبہ مکمل بھر دیا تھا یہی وجہ ہے