تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 77
کیا گیا ہے۔کوئی مقام ایسا نہیں آسکتا جس کے بعد وہ اپنے آپ کو جد و جہد اور عمل و کوشش سے بے نیازہ سمجھنے لگے۔اسی امر کے لئے اس کی جد و جہد اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پر منتج ہو ضروری ہے کہ وہ خیال آرائی اور بلند پروازی سے کام لے۔جب بھی وہ بلند پروازی اور خیال آرائی سے کام لینا چھوڑ دے گا۔اس کی کوششیں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔غلام قوم میں سب سے بڑی برائی یہی ہوتی ہے کہ وہ غور وفکر کی عادت کھو بیٹھتی ہے اس کے افراد صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک حال میں ہی محو رہتے ہیں اور مستقبل کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتے اور اگر کبھی اس طرف متوجہ ہوتے بھی ہیں تو بے حقیقت اور خیالی باتوں سے آگے نہیں جاتے۔کوئی پروگرام اور کوئی سکیم ان کے مد نظر نہیں ہوتی محض ایک خیال ول میں پیدا ہوتا ہے جسے عملی جامہ پہنا کبھی نصیب نہیں ہوتا حالانکہ سیکیم اس کو کہتے ہیں کہ فلاں چیز ملنی ممکن ہے اسے حاصل کرنے کیلئے فلاں فلاں ذرائع کی ضرورت ہے اور وہ ذرائع فلاں فلاں نوعیت کی کوشش کے بغیر میں نہیں ہو سکتے تو گویا ذرائع معلوم کرنے کے بعد یہ سوچنا کہ ان ذرائع کو کیونکہ فراہم کیا جا سکتا ہے دوسرے الفاظ میں بلند پروازی کہلاتی ہے۔راسی امر کو مزید واضح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔بلند پروازی اس کو کہتے ہیں کہ انسان اپنی موجودہ حالت سے اوپر ایک مقصد معین کرے پھر یہ سوچے کہ یہ مقصد کن ذرائع سے حاصل ہو سکتا ہے۔جب ذرائع اپنی معین صورت میں سامنے آجائیں تو پھر اس امر پر غور کرے کہ کن طریقوں سے یہ ذرائع فراہم ہو سکتے ہیں۔جب کوئی شخص یہ طریقے معلوم کر کے مصروف عمل ہو جاتا ہے تو ذرائع خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور بالآخر وہ مقصد یل جاتا ہے جس کے لئے یہ سب کوشش ہو رہی تھی اگر ایسا طور میں نہیں آتا تو وہ بلند پروازی نہیں خام خیالی یا واہمہ ہے۔ایسا شخص ہمیشہ خوابوں کی دنیا میں الجھا رہتا ہے پس ہماری جماعت کے نوجوانوں کو غور وفکر اور بلند پہ وانی کی عادت ڈالنی چاہیئے۔اس مرحلہ پر حضور نے مثالیں دے دے کر واضح کیا کہ غوروفکر سے کیونکر کام لیا جاسکتا ہے چنانچہ حضور نے فرمایا مثلاً آپ المصلح میں امریکیہ یا ہالینڈ کے مشن کی رپورٹ پڑھتے ہیں۔