تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 62 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 62

۶۰ مورخه ۲۳ رو فا ۱۳۳۲ ہش / ۲۴ جولائی ۶۱۹۵۳ ) خطبه احمد آباد اس خطبہ میں حضور نے جماعت احمدیہ کو نصیحت فرمائی کہ اپنے نمونہ اور عمل کو ایسا پاکیزہ بناؤ کہ تم اپنی ذات میں محبتم تبلیغ بن جاؤ۔اگر تم ایسا تغیر پیدا کر لو تو دنیا کی کوئی طاقت لوگوں کو تمہاری طرف مائل ہونے سے روک نہیں سکتی۔اس خطبہ کے دو نہایت اہم اقتباسات درج ذیل ہیں:۔اگر ہر مسلمان کی زبان بندی کی جائے۔اگر ہرمسلمان کو تبلیغ سے روک دیا جائے۔اگر ہر مسلمان کو خدا اور اس کے رسول کا پیغام پہنچانے سے منع کر دیا جائے تب بھی خدا کا پیغام رک نہیں سکتا۔خدا خود آسمان سے لوگوں کے دلوں پر الہام نازل کرتا ہے اور وہ خود بخود ہدایت کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ہمارے پاس بیبیوں خطوط راس تقسیم کے آتے ہیں کہ ہم نے فلاں خواب دیکھی ہے جس کی وجہ سے ہم احمدیت کو قبول کرتے ہیں۔ابھی امریکہ سے وہاں کے مبلغ نے ایک شخص کی مٹھی بھجوائی ہے جو ایم۔اسے ہے اور جس میں اُس نے لکھا ہے کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ ایک شخص بلند آواز سے کہہ رہا ہے اس زمانہ میں محمود سے بڑھ کہ اسلام کا کوئی خادم نہیں۔اسی طرح بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے اور آپ نے ہمیں کہا کہ اس شخص کو قبول کر لو۔اور جب خدار کسی کو آپ بتائے گا کہ یہ بچائی ہے تو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات کو رد کرنے کی کو شخص طاقت رکھتا ہے۔۔۔۔تمہارا فرض ہے کہ اپنے اندر ایسی نیک تبدیلی پیدا کرو کہ تمہیں دیکھنے والے یہ محسوس کریں کہ تم ایک نئی چیز ہو۔دنیا میں جب بھی کوئی ایسی چیز نظر آئے جو غیر معمولی ہو تو لوگ اُس کے متعلق خود بخود دریافت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے " حضور نے خطبہ کے آخر میں اس نکتہ کو اور زیادہ موثر انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا :- " مومن کو قرآن پر اعتبار ہوتا ہے جب اس کے سامنے کوئی بات قرآن سے ثابت کر دی جائے تو وہ فوراً اس کو ماننے لگ جاتا ہے بعض لوگوں کو کسی تجربہ کار انسان پر اعتماد