تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 53
اه اول۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دنیا کی تمام چیزیں مرتب ہیں کوئی چیز مفرد نہیں ہے۔سب اشیاء میں ترکیب پائی جاتی ہے۔فرمایا وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ (الذرات: ۵۰) دوم : قرآن کریم کہتا ہے کہ اشیاء کی وہ ترکیب ہر وقت عمل (WORK ) کر رہی ہے یعنی اسکے نتائج کا ایک سلسلہ جاری ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے گی یومِ هُوَ فِي شَأْنِ کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت نئی شان اور ترکیب کے ساتھ تجلی فرماتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ کائنات عالم کی تمام چیزیں اُس کی اس تجلی سے متاثر ہوتی ہیں اور ان مرتب اشیاء کا سلسلہ کسی جگہ پر ٹھہر نہیں جاتا بلکہ آگے ہی آگے چلتا ہے۔گویا ہر وقت نئے نتائج پیدا ہو رہے ہیں۔الف اور ب کے ملنے سے حج پیدا ہوتا ہے پھر حج اور ڈ کے ملنے سے س پیدا ہوتا ہے۔غرض اسی طرح ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے۔سوم - قرآن کریم کہتا ہے کہ ان تمام اشیاء اور ان کی ترکیب اور اُس ترکیب سے پیدا ہونے والے نتائج کے اسرار کو معلوم کرنا تمہارا کام ہے۔اس کام کو سر انجام دینے والے ہی اللہ تعالے کے نزدیک عقلمند ہیں۔الَّذِيْنَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سبحنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران : ۱۹۲) وہ لوگ جو زمین و آسمان کی پیدائش کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور بالآخر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اسے خدا ! تو نے اس کارخانہ کو بے حکمت پیدا نہیں کیا۔تو پاک ہے اور ہمیں جیتیم کے عذاب سے بچا۔پھر قرآن مجید یہ بھی وعدہ کرتا ہے کہ جو لوگ قوانین الہی میں غور کریں گے اور کائنات عالم کی حکمتوں کو سوچیں گے ان پر ان کے اسرار ضرور کھولے جائیں گے اور دنیا کے ذرہ سے لے کر خود خدا تعالیٰ تک ان لوگوں کے لئے کامیابی کا راستہ کھوئے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنکبوت (۷۰) کہ جو لوگ ہمارے پیدا کر وہ عالم کے متعلق اور ہم تک پہنچنے کے لئے صحیح طریق سے کوشش کریں گے ہم اُن پر کامیابی کے راستے ضرور کھولیں گے۔یہ تین اہم صداقتیں ہیں جن کا قرآن کریم اعلان کرتا ہے اور مسلمانوں کو ان کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہی تین امور سائنس کی بنیاد ہیں۔ان حالات میں کس قدر تعجب کی بات ہوگی کہ مسلمان کا ئنات عالم سے غفلت اختیار کریں۔دنیا میں مختلف خیال کے لوگ بستے ہیں۔بعض لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کی طرف تو تب کرنا مذہب