تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 52
فصل چهارم فضل احمر ایران انسٹی ٹیوٹ ربوہ کا افتتاح فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی عمارت تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے مشرقی جانب زیر تعمیر تھی جس کی ایک حد تک تکمیل پرستید نا حضرت الصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۲۵ ماه احسان ۳۳۲ آش بمطابق ۲۵ جون ۱۹۵۳ء کو ربوہ میں نو بجے صبح فضیل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح فرمایا۔حضور نے پہلے تو ریسرچ کے ڈائریکٹر چوہدری حمد عبد اللہ صاحب ایم۔اسے پی ایچ ڈی کے ہمراہ عمارت اور سامان کا معائنہ کیا اور پھر ریسرچ کے کارکنوں اور دیگر احباب جماعت سے ایک نهایت معلومات افروز تقریر فرمائی جس کا ملخص درج ذیل کیا جاتا ہے:۔آٹھ سال ہوئے یکی نے قادیان میں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی تھی۔وہاں پر اس کا کام شروع ہو گیا تھا لیکن ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد ہمارے پاس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔میں نے ایک دوست کو تحریک کی کہ وہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ربوہ میں بنانے کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع کریں ایک لاکھ یکی جمع کروں گا۔ابھی تک یکی تو اِس بارے میں تحریک نہ کر سکا کیونکہ جماعت کے سامنے اور بہت سی تحریکات ہیں لیکن اس دوست نے باون ہزار روپیہ کے قریب جمع کر دیا ہے جس سے یہ عمارت تیار کی گئی ہے۔اگر بقیہ رقم بھی جمع ہوگئی تو انشاء اللہ العزیز وسیع پیمانے پر کام جاری ہو جائے گا اور بلڈنگ بھی مکمل ہو جائے گی۔سر دست اِس انسٹی ٹیوٹ میں پانچ سکالر کام کر رہے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جس آسمانی کتاب نے کائنات عالم پر غور کرنے کی طرف سب سے زیادہ توجہ ولائی ہے وہ قرآن کریم ہے۔دنیا کی کوئی آسمانی کتاب ایسی نہیں جس نے انسان کو کائنات عالم پر غور کرنے کا اس طرح واضح حکم دیا ہو جس طرح قرآن کریم نے دیا ہے۔قرآن مجید نے اس بارے میں تین بنیادی امور بیان فرمائے ہیں۔