تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 632
عدالت میں پیش کردہ PH ملزم عبدالحمید کو مہیا کیا جو کہ اس وقت عدالت میں موجود ہے اور جیسے میں پہچانتا ہوں۔اُس نے سُرخ پنسل سے میری موجودگی میں اندراجات کئے اس کے بعد اس پر اپنے انگوٹھے کا نشان ثبت کیا۔میں نے اسے بتایا کہ درست طریق یہ تھا کہ فارم کو سیاہی سے پر کیا جاتا ، بعد ازاں میں نے اسے عدالت میں پیش کردہ الر دنیا کیا عزم نے یہ فارم سیا ہی سے پڑ گیا اور میری نگاہوں کے سامنے اس پر اپنے دستخط ثبت کئے۔ملزم نے عدالت میں پیش کر وہ P۔H کو توڑ مروڑا اور پھینک دیا۔میں نے اسے ایک تختے پر رکھ دیا۔۔H/1 م تب میں نے عدالت میں پیشیکردہ ابر 1۔در فارم کو اُس کمبس میں جو کہ اس قسم کے فارموں کے لیے مختص ہے۔لکھ دیا ، ملزم نے دوبارہ کہا کہ اس کو مذکورہ تمہیں میں رکھو۔XXN Nil بذریعہ کورٹ جس سُرخ پنسل سے عزم نے عدالت میں پیش کردہ PH اندراجات کئے تھے وہ پہلے ہی سے عزم کے پاس تھی۔اس نے عدالت میں پیش کردہ PHA اس قلم اور سیاہی سے پر کیا جو کہ اُس جگہ پر اس قسم کے فارم پر کرنے کے لیے رکھا ہتا ہے۔R۔O۔AND M۔I۔C۔SEE : 30 At Lalian HÀNG 12۔5-1954 سرکاری گواہ نمبر 1 ON S-A۔(حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد (امام) فرقہ احمدیہ یہ بوہ میں نے بتاریخ ۱۰/۳/۱۹۵۴ کو عصر کی نماز کی امامت مسجد مبارک ربوہ میں تقریباً ۳ بجے تا ۳۰-۳ بجے سہ پہر کی۔نمازہ کے بعد میں محراب میں دروازے کی طرف چلا۔میں دروازے تک پہنچ گیا۔مجھے کامل طور سے یاد نہیں کہ آیا میں ایک قدم دروازے سے باہر نکال چکا تھا یا کہ نہیں۔اغلب قرین قیاس یہی ہے کہ میں ایک قدم دروازے سے باہر نکال