تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 626
کرتے ہوئے آسکتے ہیں۔زخم نمبر ۳ چاقو سے آسکتا ہے۔عدالت میں پیش کردہ 1-P ہے۔مورخه ۱/۳/۵۴ ابوقت ۱۰ صبح میں نے اقبال ابن نور ماہی بعمر تقریباً ۳۰ برس کا معائنہ کیا جو کہ ربوہ کا باشندہ ہے جیسے کہ ایف سی محمد شاہ لایا تھا اور اس کے جسم پر مندرجہ ذیل زخم پائے۔ایک ناسور (کھلا زخم ہے " جو بائیں کان کے سوراخ کے ابھار کو کاٹنے سے بنا تھا x + ب - ایک عمودی کاٹ کا زخم بائیں کان کی گولائی میں سے ہے ہو لیے سائز کا۔ج ایک محمودی کاٹ کا زخم ہے کہ لمبا اور کھال کی موٹائی جتنا گہرا اور نصف اپنے چوڑا اپنی بڑی چوڑائی میں بائیں جڑے کے پیچھے اور نچلی سطح پر۔محولہ بالا تینوں زخم - ب - ج ایک ہی ضرب کا نتیجہ تھے۔زخم سادہ تھے اور ہمہ گھنٹوں کے اندر کسی نیز نو گذار آلے سے لگائے گئے تھے۔شناختی نشان نمبرا چاند کی صورت ایک پرانے زخم کا نشان ہے وہ کا دائیں آنکھ کے باہر کے زاویے میں۔۱-P - نمبر ۲ گردن کے وسط میں بائیں طرف ایک تل یا نشہ یہ ہوا ہے عدالت میں پیش کردہ PE میری ڈاکٹری قانونی رپورٹ کی درست کار بن کاپی ہے زیر بحث زخم چاقو کی ضرب کی وجہ سے ہو سکتے ہیں جو عدالت میں پیش کردہ 1-P ہے۔میں نے غلام مرتضیٰ ابن چوہدری غلام مصطف العمر تقریباً ۱۳۵ برس) جو کہ ربوہ کا مکین ہے کا بتاریخ ۱۱/۳/۵۴ بوقت ، بجے صبح جیسے کہ ایف سی محمد شاہ لایا تھا۔معائنہ کیا اور مندرجہ ذیل رخم اس کے جسم پر میں نے پائے۔چار سٹی لکیر دار کھرے ہوئے خراش کے زخم ہر ایک اُن میں سے تم اپے سے لے کہ x " تک سائنہ کا تھا۔یہ سب ناک کے بائیں طرف اور بائیں رخسار پر تھے۔زخم سادہ تھا اور چومیں گھنٹے کے دوران کسی گند نوکدار سنتھیار کے ذریعے لگایا A گیا تھا مثلاً انگلیوں کے ناخن اور کسی کشمکش کا نتیجہ بھی ہو سکتے تھے۔شناختی نشان۔ایک تل ہے کہ یہ ناک کے بائیں طرف درمیان میں۔