تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 619
الہامات و مبشرات کی ضمن میں ایسے اشارات ہیں کہ حضرت پر قاتلانہ حملہ ہو ئیں اسے صراحتاً نہ کہتا بلکہ خطرات کے رنگ میں ظاہر کرتا اور مجھے یاد نہیں کہ جب میں نے ذکر کیا ہو تو میری حالت خود اس اندیشہ سے غیر نہ ہو گئی ہو۔یہ خود ملک بشیر ہی بتا سکتے ہیں کہ اس واقعہ کے تصور سے میرا کیا حال ہوتا اور میں نے اکثر دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ میری زندگی میں ایسا واقعہ نہ ہو اور اگر یہ تقدیر مبرم ہے تو اس کی صورت تبدیل کر دے، میں نے حضرت اقدس کے کشف و الہامات کی بناء پر اور بعض دوسرے حالات کے ماتحت متاثر ہو کہ اسے تقدیر مبرم ہی یقین کیا مگر یہ بھی یقین تھا کہ اس کی صورت کچھ اور ہوگی۔مثلاً میں سمجھتا تھا کہ اید خواب میں ایسا ہو جاوے جیسے اس واقعہ کا یقین تھا آپ کی سلامتی کے لیے بھی دل پُرامید تھا۔ان تاثرات کی بناء بھی بعض الہامات تھے۔شا میرا یہ یقین رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض الہامات جو آپ کی ذات کے متعلق سمجھے جاتے رہے اُن کا ظہور حضرت خلیفہ المسح ثانی کے وجود میں ہونا مقدر تھا جیسے خواتین مبارکہ کا نکاح میں آنا۔کثرت اولاد کا ہونا وغیرہ۔اس طرح سلامت بر تو اے مرد سلامت حضرت اقدس کو تو دوَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ كا الهام ہو چکا تھا۔بہر حال مقادیر اللہ جس رنگ میں وہ چاہے پوری ہوتی ہیں۔میں یہ لمبا قصہ آپ کے استفسار کے سلسلہ میں لکھ گیا اللہ تعالیٰ اس پاک وجود کو صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی عمر دے اور ہمکو توفیق بخشے کہ اس کی وہ قدر کریں جو حق قدر ہے۔وزا کے لیے کوشش کر رہا ہوں، گو مالی مشکلات ہیں تا ہم دل بے چین ہے کہ آپ کو ایک مرتبہ دیکھ لوں۔اللہ تعالیٰ سامان اور مواقع میسر فرمائے۔میرے تاثرات میں حضرت کی عمر ۷۸ - ۸۰ - یا ۸۲ ہوگی۔اللہ کرے کہ اس سے بھی زیادہ ہو۔خاکسار یعقوب علی عرفانی