تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 618
تو اندر باہر مختلف قسم کے انداز مخالفت نمایاں ہوئے۔میں جب تک قادیان میں رہا اپنے وسائل کے لحاظ سے مخفی طور پر نگرانی کرتا رہا۔جب مخالفت کی شدت مستریوں کے فتنہ سے شروع ہو کر احراریوں کے ہنگاموں میں تبدیل ہوگئی۔تو میں نے مرحوم محمود احمد اپنے بیٹے کو مامور کیا کہ مخفی دشمنوں کی سازشوں اور حرکات سکنات کا علم کھلی آنکھ رکھ کر کرو۔اس مقصد کے لیے بعض خاص ذرائع بھی استعمال کئے جاتے رہے۔قادیان کے بعض آدمیوں سے روزانہ اطلاعات کی جاتی تھیں اور پنڈت سری ناتھ کو خاص طور پر بیرونی حلقہ احرار کی خبروں کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔غرض مجھے ہمیشہ یہ خطرہ تھا۔جب میں یہاں آیا اور دشمنوں کی کارستانیوں کا کس قدر علم ہوتا رہا تو میں نے مکرم بھائی عبدالرحمن قادیانی کو لکھی کہ آپ خاص طور پر حضرت کی نگرانی رکھیں باڈی گارڈ کے بھروسہ پر رہ کر غافل نہ ہوں۔ہماری سب سے قیمتی متناع یہی ہے اور ہر قیمت پر اس کی حفاظت جہاں تک اسباب کا تعلق ہے ہم پر فرض ہے۔یہ خلاصہ ہے اُن بعض خطوط کا جو میں نے بھائی جی کو لکھے اور وہ میرے کہنے کے بغیر ہی احساس شریف رکھتے تھے اور کبھی غافل نہیں رہے۔پھر جب ملک بشیر علی صاحب ابن عم ملک غلام فرید صاحب ان کا سپارشی خط کیکر میرے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے ان کے کاروباری معاملہ میں اللہ اخلاقی مدد کی توفیق دی وہ اکثر میرے پاس آتے اور ہم گھنٹوں سلسلہ کے متعلق باتیں کرتے۔اس سلسلہ میں دشمنوں کی متحدہ کوششوں کا ذکر بھی آتا اور میں نے یہ بھی ان سے صراحتاً کہا کہ ہمارے خلاف وہاں خطرناک شورشیں ہونگی اور اسی سلسلہ میں یہ بھی کہا کرنا کہ بعض باتیں بیان کرنے کی نہیں ہوتیں اس لیے کہ ہر شخص ایسا نہیں ہوتا کہ صحیح رنگ میں اس کا مفہوم سمجھ لے اگر مجھے پر یہ اثر ہمیشہ قائم رہا کہ حضرت اقدس کے بعض کشوف اور