تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 593
۵۶۷ ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر جو بجلی کے قمقموں سے بقعہ نور بنا ہوا تھا۔امیر مقامی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے علاوہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد ربوہ میں مقیم ناظر اور وکلاء صاحبان اور استقبالیہ کمیٹی کے جملہ ارکان حضور کے خیر مقدم کی سعادت حاصل کرنے کے لئے پہلے ہی سے موجود تھے۔یہ سب حضور کی سنخیر و عافیت واپسی صحت و سلامتی اور درازئی عمر کے لئے زیر لب دعائیں کرنے میں مصروف تھے کہ سات بجے شب کے قریب یکا یک دور سے فضا میں گاڑی کی روشنی نمودار ہوئی۔روشنی کا نمودار ہونا تھا کہ تمام احباب کے چہرے جو پورے نظم وضبط کے ساتھ کھڑے تھے خوشی اور مسرت سے کھل گئے۔ہر چند کہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوا چاہتی تھیں پھر بھی جذبہ شوق کے ہجوم سے سب میں ایک میر کیف اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔آن کی آن میں گاڑی پلیٹ فارم سے آن لگی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور استقبالیہ کمیٹی کے ارکان آگے بڑھے اور ان کے پیچھے پیچھے سب کے دل قدم اٹھاتے ہوئے ڈبے تک جا پہنچے جس میں حضور رونق افروز تھے۔تمام فضا اللہ اکبر اور امیر المومنین زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی اُدھر مجلس اطفال الاحمدیہ کے ایک گروپ نے جو پندرہ اطفال پوشتمل تھا حضرت مسیح موعود کے حسب ذیل اشعار خوش الحانی سے پڑھ کر ایک سماں باندھ دیا ہے لختِ جگہ ہے میرا محمود بندہ تیرا دے اس کو عمر و دولت کہ دور ہر اندھیرا دن ہوں مرادوں والے پر نور ہو سو میرا به روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي چونکہ ان دنوں ربوہ کے اسٹیشن پر ابھی کرسی دار پختہ پلیٹ فارم نہیں بنا تھا۔اس لئے ڈبہ کے ساتھ لکڑی کا ایک زینہ لگا دیا گیا۔حضور نے دروازہ کھولتے ہی اس زینے کو مٹانے کا حکم دیا اور زینہ مٹنے کے بعد حضور گاڑی کے پائیدانوں پر قدم رکھتے ہوئے نیچے اُترے جو نہی حضور نے ربوہ کی سرزمین پہ قدم رکھا مجلس استقبالیہ کی طرف سے ایک بکرا بطور صدقہ ذبح کیا گیا۔اور عزباء میں تقدیمی تقسیم کی گئی۔سب سے پہلے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضور کا خیر مقدم کرتے ہوئے آگے بڑھ کر حضور پر نور سے مصافحہ کیا، بعدة استقبالیہ کمیٹی کے صدر ( اور نمائندہ خدام ان حمدیہ و