تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 592 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 592

| کی سجی ہوئی محرابوں اور رنگ برنگ کی جھنڈیوں سے آراستہ تھا جمع ہونے شروع ہو گئے۔ہر چند کہ وہ اس خبر کو سننے کے ہر آن منتظر تھے تاہم حضور کی تشریف آوری کی خبر انہیں اچانک ملی۔سوا پانچ بجے سہ پہر کے قریب جب احباب عصر کی نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹے ہی تھے مسجد مبارک کے لاؤڈ سپیکر سے استقبال کمیٹی کے سیکرٹری مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر دحالی ناظر دیوان صدر انجمن احمدیہ نے یہ اعلان کیا کہ ستید تا حضرت المصلح موعود آج شام چناب ایکسپیریں سے ربوہ تشریف لا رہے ہیں احباب استقبال کی سعادت حاصل کرنے کے لئے مقررہ راستے پر اپنے اپنے حلقوں میں پہنچ جائیں۔اس اعلان کا ہوتا تھا کہ سارے ربوہ میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے اس راستے پر آجمع ہوئے جو استقبال کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ محلہ وار نظام کے تحت اپنے اپنے صدر صاحبان کی قیادت میں سروقد ایستادہ اس معین لمحے کے منتظر تھے کہ جب حضور ربوہ کی سرزمین میں درود فرمانے کے بعد ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے قصر خلافت کی طرف روانہ ہوں۔اور وہ خود شرف دیر سے سرفراز ہو کر صمیم قلب سے اھلا و سھلا مرحبا۔کہنے کی سعادت حاصل کریں۔راستوں کی سجاوٹ ، مشتاقان دید کا اجتماع ایک جھلک دیکھنے کی تڑپ میں چہروں پر ایک کیف آور اور اضطراب نیز در و دیوار کے چپے چپے پر چراغاں کا دلکش منظر ربوہ اور اس کے ماحول کو محو حیرت گئے دے رہا تھا۔اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا اس ماحول کا ذرہ ذرہ حضرت نواب مبارکہ بیگم کے الفاظ میں یہ کہہ رہا ہے کہ صد مبارک آرہے ہیں آج وہ روز و شب بے چین تھے جن کے لئے آگ آخر خدا کے فضل سے دن گنا کرتے تھے جس دن کے لئے یہ قطعہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے خاص اسی تقریب کے لئے کہا تھا۔جو" الفضل " کے " خیر مقدم نمبر میں شائع ہوا۔