تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 581 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 581

برکت دے۔اہل ربوہ حضور کی خدمت میں تہہ دل سے مبارک با دعرض کرتے اور دعا کی درخواست کرتے ہیں۔مرزا بشیر احمد الله دوشنبہ ہے مبارک دو شنیہ اصل پرو گرام کے مطابق حضورکی کراچی میں واپسی پر ستمبر بروز مشکل مقر یعنی مگر آخری وقت پر کسی ناگزیر تبدیلی کی وجہ سے حضور کراچی میں مقررہ وقت سے ایک دن پہلے ہی یعنی پیر کے روز پہنچ گئے۔اس طرح اس سفر پر بھی حضرت مسیح موعود کا پیش گوئی مصلح موعود سے متعلق الہام " دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ کمال صفائی کے ساتھ صادق آگیا۔قادیان میں جشن مسرت احمدیت کے دائمی مرکزے۔قادیان۔میں بھی سید نا حضرت مصلح موعود کی سفر یورپ سے کراچی میں کامیاب اور باعافیت مراجعت کی 4- ار ستمبر ۱۹۵۵ خیرہ ستمبر کو پہنچ گئی جس سے دیار حبیب کے تمام درویشوں میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی اور سب نے خدا کی حمد و ثنا کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔طے شدہ پروگرام کے مطابق اسی روز عصر کی نماز کے بعد مغیرہ بہشتی میں تمام درویشوں نے لمبی پر سوز اجتماعی دعا کی۔اسی روز رات کے وقت منارہ مسیح کے آٹھوں بجلی کے بڑے بڑے لیمپ روشن کئے گئے جن کی روشنی سارے قادیان کو بقعہ نور بنا رہی تھی۔اور تصویری زبان میں مہر دیکھنے والے کو اس امر کی دعوت دے رہی تھی کہ باوجود انقلاب زمانہ کے قادیان کا نور بدستور اکناف عالم میں پھیل رہا ہے اور احمدیت کے دائمی مرکز سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے سامان ہو رہے ہیں۔منارہ اسی پر رنگارنگ کی جھنڈیاں الگ اپنی بہار دکھا رہی تھیں۔سلسلہ کی مرکز میں عمارات کے علاوہ درویشان کرام نے خاص طور پر اپنے اپنے گھروں پر چراغاں کا انتظام کر رکھا تھا۔کہ احمدیہ محلہ کے بازار گلی کوچے نھے ننھے چراغوں سے جگہ کا رہے تھے۔اگلے روز یعنی ۷ ستمبر کو اس خوشی میں تمام دفانتر صدر انجین احمدیہ میں تعطیل تھی اور حب اعلان ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے صبح مسجد اقصی میں زیر صدارت حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ امیر مقامی جلسہ تشکر و تہنیت منعقد ہوا جس میں تلاوت قرآن کریم کے بعد چو ہدری محمود احمد سے یہ الفضل کے ستمبر 1920 ء من کالم را جسے " الفضل" ۲۶ ستمبر ۹۵۵ مت -