تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 559
۵۳۳ کا پیرو کار ہوں جس نے دنیا میں امن اور رواداری کو قائم کرنے کی پوری کوشش کی اور اپنے مخالفین جنہوں نے مسلمانوں کو تہ تیغ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا کو فاتح ہونے کی حیثیت میں کی طرح معاف کر دیا حضور نے فرمایا کہ اسلام اس روا داری کی تعلیم کا حامل ہے اور اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی اسلام قومیت اور رنگ و نسل کی تمیز سے بالا ہے اور دنیا میں عالمگیر برادری اور اخوت کو قائم کرنے کے لئے زریں اصول پیش کرتا ہے حضور کی اس محبت بھری تقریر کا جرمن ترجمہ چوہڑ ی عبد اللطیف صاحب نے بعد میں کیا۔حاضرین نے حضور کی تقریر کو بہت پسند کیا۔ہمبرگ کی ایک روز نامہ اخبار HAMBURGAR ANGEIGER اختیارات میں پھر چا نے اپنی اشاعت مورخہ ۱۲۸ جون ۱۹۵۵ء میں حضور کی اس تقریر اور ہمبرگ گورنمنٹ کی طرف سے خوش آمدید کا ذکر ایک نہایت اچھے فوٹو کے ساتھ حسب ذیل الفاظ میں کیا۔امیر المومنین ٹاؤن ہال میں " احمدیہ جماعت کے امام حضرت مرزا محمود احمد صاحب (تصویر بائیں طرف) لوکل ٹاؤن ہال MINISTER VON FUEMNE نے خوش آمدید کہا۔۶۶ سال کی عمر کے امیر المومنین نے کل جماعت کی طرف سے دی ہوئی دعوت چائے کے موقعہ پر بیان کیا کہ ربوہ کی تعمیر کس طرح شاء میں مخالف حالات میں ہوئی ایک بے آب و گیاہ گاؤں سے کس طرح یہ ایک بڑا شہر بنا جس میں آب مختلف کالج اور مشتری کالج تعمیر ہو چکے ہیں۔اسلام صلح اور امن کا مذہب ہے۔اور عالمگیر اخوت کو قائم کرنے کے لئے اصول پیش کرتا ہے اس لئے اسلام یورپ کے لئے مناسب حال مذہب ہے۔اور خاص طور پر جرمنی کے لئے عالمگیر مذہب ہونے کی بناء پر اسلام کا مستقبل جنین میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اسلامی روح جرمنی میں زندہ ہے۔احمدیہ جماعت کا جرمنی میں مرکزہ ہمبرگ ہے اور اس کے تبلیغی مشن مختلف ممالک میں موجود ہیں۔اس روز نامہ کے علاوہ جرمنی کے دیگر بیسیوں اخبارات میں بھی حضور کی آمد کی خبر کم و بیشی مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع ہوئی : اسلامی خلیفہ بطور مہمان ہمبرگ میں حضرت مرزا محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ تین روز کے لئے بطور جہان تشریف لائے۔ان کا ایک خطاب امیر المومنین بھی ہے۔۶۶ سال کی عمر کے