تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 554 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 554

ضروری ہے موجودہ درختوں سے بھی دس پندرہ گئے بلکہ زیادہ درخت لگائے جائیں سجلی سے آپ کام بہت آسان ہو گیا ہے۔مرزا محمود احمد سرمئی کو حضور ڈاکٹر شمٹ ہو میو میتھے سے مشورہ لینے کے لئے زیورک جنیوا کا دوبارہ سفر سے جینوا تشریف لے گئے اور یکم جون کو واپس زیور ک آگئے نے حضرت مصلح موعود نے ۱۵ جون ۹۵۵اء کو ایک زیورپ کے احمدی احباب سے خطاب ہی پارٹی کے موقعہ پر زیور پا کے احمدی احباب سے انگریزی میں خطاب فرمایا جس کا ترجمہ بعد میں شیخ ناصر احمد صاحب مبلغ انچارج سوئٹزر لینڈ نے جرمن زبان میں کیا۔حضور نے فرمایا :- میرے دوستو اور بھائیو۔۔۔۔۔۔۔السلام عليكم ورحمة الله و بركاته۔- میں ایک سخت بیماری کے بعد تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں اس بیماری کے دوران میں بعض اوقات مجھے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ شاید یکیں تمہیں کبھی دیکھنے کے قابل نہ ہو سکوں گا لیکن خدا تعالے نے مجھے تم سے ملنے کا موقعہ جہتیا فرما دیا ہے میری بڑی خواہش تھی کہ میں تم سے ملوں بالکل اسی طرح جس طرح ایک باپ کو اپنے بچوں سے ملنے کی خواہش ہوتی ہے۔خدا تعالے نے تمہیں میرے روحانی فرزند بنایا ہے اس لئے تم سے میری محبت کا رشتہ طبعا دنیاوی بیٹوں سے زیادہ مضبوط ہے۔آج سے تیس سال قبل روم سے براستہ میلان فرانس جاتے ہوئے میں تمہارے ملک سے گذرا تھا لیکن میں یہاں پر قیام نہ کر سکا تھا۔میں نے اس وقت درخت جھیلیں اور ندیاں دیکھی تھیں۔اور خیال کیا تھا کہ سوئٹزر لینڈ انتہائی خوبصورت ملک ہے جس میں اس قسم کے ہرے بھرے منظر عمدہ جھیلیں اور سرسبز درخت ہیں۔میں اس وقت یہ نہ جانتا تھا کہ اس ملک میں بھی ایسی وفادار اور مخلص دل رکھنے والی روحیں پیدا ہوں گی۔جو خدا تعالیٰ کے حضور جھکیں گی۔اور اس کی ہدایت کو حاصل کریں گی۔لیکن آپ میں اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھ رہا ہوں اور اس پر میں بہت ہی خوشی محسوس کر رہا ہوں یکی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے تمہیں صراط مستقیم پر چلائے اور تم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کہ "الفضل " ۲۶ ستمبر ۱۹۵۵ء