تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 551 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 551

۵۲۵ زیور برج ۲۲ مئی ۱۹۵۵ء برادران ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبر کاتہ۔سالہا سال کی بات ہے کس نے خواب دیکھی تھی اور وہ اخبار میں کئی دفعہ چھپ بھی چکی ہے میں نے دیکھا کہ میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور سامنے ایک بڑا قالین ہے اور اس قالین پر عزیزیم چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب عزیزم چو ہدری عبد الله خانصاحب اور عزیزم چوہدری اسد اللہ خان صاحب لیٹے ہوئے ہیں۔سران کے میری طرف ہیں اور پاؤں دوسری طرف ہیں اور سینہ کے بل لیٹے ہوئے ہیں اور میں دل میں کہتا ہوں کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں۔عزیزم چوہدری ظفر اللہ خانصاحب نے ساری عمر دین کی تقدمت میں لگائی ہے اور اس طرح میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا ہے۔میری بیماری کے موقعہ پر تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کو اپنے بیٹا ہونے کو ثابت کرنے کا موقعہ دیا بلکہ میرے لئے فرشتہ رحمت بنا دیا وہ میری محبت میں یورپ سے چل کر کراچی آئے اور میرے ساتھ چلنے اور میری صحت کا خیال رکھنے کے ارادہ سے آئے چنانچہ ان کی وجہ سے سفر بہت اچھی طرح کٹا اور بہت سی باتوں میں آرام رہا آخر کوئی انسان پندرہ بیس سال پہلے تین نوجوانوں کے متعلق اپنے پاس سے کس طرح ایسی خیر دے سکتا تھا۔دُنیا کا کون سا ایسا مذہبی انسان ہے جس کے ساتھ محض مذہبی تعلق کی وجہ سے کسی شخص نے جو اتنی بڑی پوزیشن رکھتا ہو جتنی چودھری ظفر اللہ خان صاحب رکھتے ہیں اس اخلاص کا ثبوت دیا ہو کیا یہ نشان نہیں ؟ مخالف مولوی اور پیر گالیاں تو مجھے دیتے ہیں مگر کیا وہ اس قسم کے نشان کی مثال بھی پیش کر سکتے ہیں کیا کسی مخالف اور پیر نے ۲۰ سال پہلے کسی نوجوان کے متعلق ایسی خبر دی اور بیس سال تک وہ خیر پوری ہوتی رہی اور کیا کسی ایسے مولوی اور پیر کی خدمت کا موقعہ خدا تعالیٰ نے کسی ایسے شخص کو دیا جو چودھری ظفر اللہ خانصاحب کی پوزیشن رکھتا تھا اللہ تعالے ان کی خدمت کو بغیر معاوضہ کے نہیں چھوڑے گا۔اور اُن کی محبت کو قبول کرے گا اور اس دنیا اور اگلی دنیا میں اس کا ایسا معاوضہ دے گا کہ پچھلے ہزار سال کے بڑے آدمی اس پر رشک کریں گے کیونکہ وہ خدا شکور ہے اور کسی کا احسان نہیں اٹھاتا اس نے ایک عامیہ بندہ کی محبت کا اظہار کیا اور اس کا بوجھ خود اٹھانے کا وعدہ کیا اب یقینا جو اس کی خدمت کرے گا خدا تعالے اس کی خدمت کو قبول کرے گا۔اور دین و دنیا میں اس کو ترقی دے گا۔وہ صادق الوعد ہے اور رحمان و رحیم ہے۔اب