تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 546 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 546

۵۲۰ أريد بِهَا وَجْهَ الله یعنی یہ ایسی تقسیم تھی جس میں خدا تعالیٰ کی رضا کو یہ نظر نہیں رکھا گیا۔آپ یہ ایک اعتراض ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ تقسیم جس میں خدا تعالے کی رضا کو مد نظر نہ کھا جائے چند قسم کی ہو سکتی ہے مثال ایسی تقسیم کہ اپنے آپ انسان مال کھا جائے یا ایسی تقسیم میں میں رشتہ داروں کو مال دیدے یا ایسی تقسیم کہ جس نے اعتراض کیا ہے اس کا حق مارا جائے تبھی وہ غلط ہو سکتی ہے لیکن اس نے ایک مثال بھی پیش نہیں کی آپ بکو اس کرنے کو تو ہر شخص بکو اس کر سکتا ہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ جب اس نے کہا ما اريد بِهَا وَجہ اللہ تو کیا اس نے کوئی مثال پیش کی ؟ کہ میرا حق مجھے نہیں دیا یا کیا اس نے یہ مثال پیش کی کہ آپ نے اپنا حصہ اتنا نکال لیا جو جائز نہیں تھا یا اپنے رشتہ داروں کو اتنا مال دے دیا جو جائز نہیں تھا کوئی ایک مثال پیش نہیں کی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فقرہ نے ہی بتا دیا کہ وہ جھوٹا الزام لگا رہا تھا ورنہ ان تینوں مثالوں میں کوئی مثال تو بتاتا جس میں ناجائز سلوک ہوتا ہے یا یہ بتاتا کہ آپ نے مال زیادہ لے لیا باید کہ اپنے رشتہ داروں کو مال دے دیا جس کے وہ مستحق نہیں تھے یا یہ کہ میں مستحق تھا مجھے نہیں دیا تو نہ رشتہ داروں کی مثال پیش کرتا ہے۔اور نہ اپنی مثال پیش کرتا ہے جس سے ثابت ہو کہ اس کا اعتراض معقول تھا پس پتہ لگا کہ در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رب العالمین والی قلی صفت پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ محض اپنی حماقت کا اقرار کرتا ہے تو اس قسم کے اعتراضات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل رب العالمین ہوتے کو زیادہ ثابت کرتے ہیں اگر واقعہ میں کوئی غلطی ہوئی تھی تو وہ بتاتا کیوں نا کہ یہ غلطی ہوئی ہے اس کا نہ بتانا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بھی جانتا تھا کہ آپ رب العالمین ہیں اور میں اعتراض کر ہی نہیں سکتا نہ میں یہ کہ سکتا ہوں کہ میرا حق نہیں دیا کیونکہ جھوٹا بنوں گا نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اپنے رشتہ داروں کو دے دیا ہے نہ یہ کہ حضور نے خود لے لیا ہے کیونکہ لوگ کہیں گے کہ بتا تو سہی کہاں لے لیا گو اس کا اپنا فقرہ ہی یہ بتاتا ہے کہ وہ حضور کو صنعت رب العالمین کا ظل سمجھا ہے اس لئے اعتراض کا ہوتا اس بات کی علامت نہیں کہ آپ الحمد کے مستحق نہیں وہ اعتراض اتنا غیر معقول تھا کہ اپنی ذات میں ثابت کر رہا تھا کہ آپ رَبِّ العالمین کے ظل ہیں اور اس لئے آپ الْحَمْدُ لِلهِ کے بھی ظل ہیں اور ہر قسم کی تعریفوں کے مستحق ہیں اسے لے روزنامہ الفضل ریوه ۱۶ جون ۶۱۹۵۵ مت۔