تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 545
۵۱۹ کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو پارٹیوں سے بالا ہو اور ہر قوم اور ملت سے اس کا سلوک انصاف اور رحم والا ہو۔اس سلسلے میں میں نے بتایا تھا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تو اس صنعت کے ظاہر کرنے میں سب سے بانی تھے لیکن آپ پر بھی اعتراض ہوئے لیکن وہ اعتراض اس قسم کے نہیں تھے جو معقول ہوں بلکہ بغیر معقول اعتراض تھے جو اپنی ذات میں اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ یہ چسپاں نہیں ہوتے ہیں آج اس سلسلہ میں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ابو سفیان تھا۔جب آپ نے ہر قل کو خط لکھا تو ہر قل بادشاہ نے کہا۔دیکھو جس شخص نے خط لکھا ہے اس کی قوم کے کوئی لوگ اس ملک میں ہیں تو معلوم ہوا کہ ابوسفیان ان دنوں اپنے قافلہ سمیت تجارت کے لئے آیا ہوا ہے جب اس کو پتہ لگا تو اس نے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کو بلایا اور ابو سفیان کو آگے کھڑا کیا اور اس کے ساتھیوں کو پیچھے اور کہا کہ دیکھو میں بادشاہ ہوں میرے سامنے جھوٹ بولنا بر اسخت سزا کا مستوجب بنا دیتا ہے ، میں اس سے سوال کروں گا۔اگر یہ کسی وقت جھوٹ بولے تو فوراً مجھے بتا دیا کہ جھوٹ بولا ہے۔ابو سفیان کہتا ہے کہ ہر قل نے پہلے مجھ سے یہ سوال کیا کہ بتاؤ نبوت کے دعوئی سے پہلے اس شخص کے اخلاق کیسے تھے تو میں نے کہا کہ بڑے اچھے تھے تو اُس نے کہا میں تھے یہ سوال اس لئے کیا تھا کہ موت کے دعوئی کے بعد تو تمہاری دشمنی ہوگئی پس دعوئی سے پہلے کی گواہی ہی سچی گواہی ہو سکتی ہے بعد کی گواہی تو دشمنی کے ماتحت ہوگی۔پھر اس نے پوچھا کہ جب اس نے دھوئی کیا تو اس دعوی کرنے کے بعد تم نے اس کا رویہ کیسا دیکھا ؟ کیا اس نے کبھی تم سے جھوٹ بولا تو وہ کہنے لگا کہ نہیں اس کے ساتھ ہمارے کئی معاہد ے ہوئے ہیں کبھی اس نے وعدہ شکنی نہیں کی لڑائیوں کے بعد جب بھی معاہدہ ہوا اس نے اسے پورا کیا تو آب گویا یہ ایک شدید ترین دشمن کی گواہی ہے جو در حقیقت انعامات کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ مزا کا مستحق ہوتا ہے اس لئے اس کو شکوہ زیادہ پیدا ہو سکتا ہے اور بہت ممکن تھا کہ وہ اعتراض کو تا بلکہ وہ خود بھی کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا کہ نہیں جھوٹ بول کر اعتراض کر دوں مگر چونکہ بادشاہ نے میرے پیچھے ساتھی کھڑے کئے ہوئے تھے میں ڈرا کہ اگر میں نے جھوٹ بولا تو انہوں نے بول پڑتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔اسی طرح آپ نے ایک وفعہ اموال غنیمت تقسیم کئے تو ایک شخص بولا تِلْكَ قِسْمَةٌ مَا