تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 537
اور حضور کی کامل شفاء کے لئے دعا کی۔السید محمد توفیق الصفدی کے بعد السید نجم الدین نے بھی ایک قصیدہ پیش کیا۔ازاں بعید حضرت مصلح موعود نے الشیخ عبد الرحمن البر جادی کی درخواست پر جماعت احمدیه بر جا کی مرکزی عمارت کے لئے بنیادی پتھر پر ہاتھ اُٹھا کر دعا فرمائی۔- بر جا کے علاوہ طرابلس الشام سے بھی محمد ابراہیم عقیلی صاحب اپنے بچوں کے ہمراہ آئے ہوئے تھے حضور اُن کے حالات دریافت فرماتے رہے۔یہ مختصر مجلس برخاست ہوئی تو دوستوں نے دوبارہ مصافحہ کیا۔اور پھر حضور ساحل سمندر کی طرف تشریف لے گئے اور نئے بیروت کے بعض حصوں کو دیکھا۔اس وقت چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور مکرم تو فیق محمد صفری صاحب کو حضور کی کار میں بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوئی حضور لبنان میں سلسلہ کی ترقی کے لئے بعض امور پر تبصرہ فرماتے رہے۔مغرب کی آذان ہو چکی تھی۔حضور سیر سے واپس تشریف لائے۔نماز مغرب و عشاء پڑھائیں اور بعض نئے دوستوں کو شرف ملاقات بخشا۔ایک زیر تبلیغ عیسائی دوست کمیل مشلوب نے بھی حضور سے مصافحہ کیا۔مصافحہ کے بعد اس شخص نے ایک دوست سے کہا وَ اللَّهِ لَقَدِ انْشَرَحَ فَلَى من زِيَادَةِ هَذَا الشَّخص۔بخدا اس شخص کی ملاقات سے میرے دل میں انشراح پیدا ہوا ہے سیے یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ بیروت کے جنرل سیکرٹری محمد توفيق الصفدی صاحب اور محمد در جناتی صاحب ساری رات اخلاص اور متعدی سے پہرہ کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔بیروت سے زیورک تک مرضی کو پونے سات سمجھے مکان سے امیر پورٹ کے لئے روانگی کا وقت مقرر تھا۔دمشق اور بیروت کی جماعت کے احباب جمع ہونے شروع ہو گئے روانگی کا وقت قریب آ گیا۔لبنانی فلسطینی اور شامی جماعت نے بڑھ بڑھ کہ آقا کے ہاتھوں کو عقیدت اور محبت کے بوسے دیئے۔پروگرام کے مطابق کاروی کا قافلہ ائیر پورٹ کو روانہ ہوا جب ایر پورٹ پر حضور کار سے 1900 الفضل وارمئى ٩٥٥اء والفضل ١٠ رجون ٩٥٥اء ص٣ -