تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 534
۵۰۸ رمئی ۱۹۵۵ء کو جمعہ کا دن تھا۔حضور چونکہ ہفتہ کے روز بیروت روانہ ہو رہے تھے اسلئے صبح سے ہی کثرت سے احباب حضور کی فرودگاہ پر تشریف لانے لگے۔جماعت نے اس تاریخی موقعہ کی یادگار ظاہری طور پر محفوظ کرنے کے لئے فوٹو گرافر کا انتظام کیا جس نے مختلف فوٹو لینے شروع کئے اس اثنا میں نمازہ جمعہ کا وقت ہو گیا۔الحارج بدر الدین صاحب کو یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ حضرت المصلح الموعود ان کے مکان میں ہی جمعہ پڑھائیں۔حضور نے فصیح و بلیغ عربی زبان میں ایک مختصر خطبہ جمعہ پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے تقریباً نصف صدی قبل جب کہ آپ میں سے اکثر بھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے حضرت مسیح موعود کو الہام فرمایا دعُونَ لَكَ ابْدَالُ الشَّامِ وَ عِبَادُ اللهِ مِنَ العَرَبِهِ یعنی تیرے لئے شام کے ابدالی اور میوب کے نیک بندے دُعائیں کرتے ہیں آج تمہارے وجود میں یہ نشان پورا ہو رہا ہے۔نماز جمعہ کے بعد حضور کچھ وقت مجلس میں رونق افروز رہے بستید محمد ذکی صاحب نے تلاوت ' قرآن کریم کی۔السید محمود الربانی نے حضرت مسیح موعود کا عربی قصیدہ پڑھا اور پھر السید ابراہیم الجبان نے حضرت مصلح موعود کی شان مبارک میں ایک شاندار قصیدہ پڑھا جو اُن کی قلبی واردات کا آیکیدوا را در اخلاص کا مرقع تھا۔اس یادگار تقریب کے کئی فوٹو لئے گئے اور دُعا پر یہ تقریب ختم ہوئی ہے دمشق کی مخلص احمدی جماعت نے زاویۃ الحصنی شاغور میں حضور کے اعزاز میں دعوت عشائیہ کا اہتمام کیا تھا۔مگر شام کے وقت حضور کی طبیعت ناساز تھی۔اس لئے حضور اس میں شریک نہ ہو سکے۔احباب کھانے سے فارغ ہو کر حضور کی قیام گاہ پر حاضر ہو گئے حضور تقریباً پون گھنٹہ احباب میں تشریفہ قرار ہے اور انہیں شرف مصافحہ و معانقہ بخشا۔مكتوبات احمد به جليدا ول صفحه 4 - - مکمل قصيده " الفضل " وارمتى ٩٥٥اء صفحہ ۳ پر شائع شدہ ہے۔