تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 535 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 535

۵۰۹ ۱۹۲۳ء اور شاہ کے مشق کا موازنہ حضرت علیم و دو تشہد میں میں نبی داشتن ہوے تھے مگر اکتیس سال قبل کے دمشق اور موجودہ دمشق میں ایک بھاری فرق تھا۔۱۹۲۷ء میں یہاں کوئی دمشقی احمدی نہ تھا اور حالات اس درجہ مخالف تھے کہ دشقی عالم الشیخ عبد القادر المغربی نے حضور سے کہا آپ یہ امید نہ رکھیں کہ ان علاقوں میں کوئی شخص آپ کے خیالات سے متاثر ہو گا۔کیونکہ ہم لوگ عرب نسل کے ہیں اور عربی ہماری مادری زبان ہے اور کوئی ہندی خواہ وہ کیسا ہی عالم ہو۔ہم سے زیادہ قرآن وحدیث کے معنی سمجھنے کی اہمیت نہیں رکھتا۔اولو العزم فضل عمر اس چیلینج پر خاموش نہ رہ سکے اور فرمایا ، اب ہندوستان واپس جانے پر میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ آپ کے ملک میں مبلغ روانہ کروں۔اور دیکھوں خدائی جھنڈے کے علمبرداروں کے سامنے آپ کا کیا دم خم ہے۔اللہ اللہ کسی تو کل علی اللہ اور کس عزم کا اظہا رتھا جس نے خدا کے فضلوں کو ایسی تیزی سے جذب کیا کہ اب جو اکتیس سال کے بعد وہی اولوالعزم اور متوکل اور مسیح محمدی کا لخت جگر اور پسر موعود دشت میں وارد ہوا تو مخلصین احمدیت کی ایک بے مثال جماعت قائم ہو چکی تھی۔اور حضور کے عاشق خدام اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے اس کے ہاتھ کو بوسہ دینے کے لئے اور اس کے روح پیر در کلمات سننے کے لئے اور اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کے لئے بے تاب نظر آتے تھے اور اس سے تعارف کا فخر حاصل کرنے اور اس کی دُعاؤں کے حصول کیلئے تڑپتے تھے اور خدا کے اس موعود خلیفہ کے در کی پاسبانی کے لئے فخر و عزت محسوس کر رہے تھے بلے مشق سے بیروت سیدنا با محمود المصلح الموعود ایک ہفتہ دشتق میں قیام فرمانے اور اس کی فضاؤں کو اپنے انوار و برکات سے معطر کرنے کے بعد ، رفتی کو سوا سات بجے صبح دمشق سے بیروت کے لئے روانہ ہو گئے۔حضور کے ساتھ مشق کی جماعت کے مخلصین کی ایک تعداد سید میرا المحصنی صاحب کی قیات میں بیروت آئی ان مخلصین کے اسماء حسب ذیل ہیں :- محمد الشواء پلیدر - سعید القبانی۔علاؤ الدین تو بجاتی۔ذكر يا الشواء سليم حسن الجابي ه تاریخ احمدیت جلد پنجم مسالم و مکالم گے متى ہے۔" الفضل" ۱۵ مئی ۱۹۵۵ء ۳۰ - - -