تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 520
ہمارا پہلا قافلہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوائی جہاز کے ذریعہ قاہرہ پہنچ چکا ہے۔۲۹ کو میں انشاء اللہ تعالیٰ رات کے ساڑھے بارہ بجے بقیہ قافلہ کے ساتھ دمشق روانہ ہوں گا۔وہاں سے انشاء اللہ تعالیٰ دوسری تار دی جائے گی۔احباب جماعت نے خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے فکر سے بچانے کی کوشش کی ہے۔الا ماشاء الله بعض اشخاص کے جنہوں نے باوجو د سفر اور بیماری کے نیش زنی سے پر ہیز نہیں کیا۔لیکن تھوڑے بہت تو ساری قوم میں ہی مجرم ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مخلص گروہ ہی جیتے گا اور وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ میری بیماری کی وجہ سے انہیں سر اٹھانے کا موقعہ مل گیا ہے نا کام ونامراد ہوں گے اور خدا تعالے مخلص حصہ کا ساتھ دے گا۔اور دن رات کے کسی حصہ میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے کراچی آنا بہت مفید ثابت ہوا ہے۔اور یہاں یوروپ کے علاج کے متعلق نہایت مفید مشورے حاصل ہوئے ہیں اور ڈاکٹروں نے نہایت محبت سے علاج کے مثبت اور منفی پہلو سمجھا دیتے ہیں۔اب صرف ایک تشخیص جاتی ہے ڈاکٹروں کی رائے یہ ہے کہ وہ تشخیص یوروپ میں ہی ہو سکتی ہے۔اور یہ کہ اگر وہ بھی تسلی دلانے والی ہو تو انشاء اللہ بیماری کا کوئی حصہ بھی تشویش ناک باقی نہیں رہے گا۔بلکہ جب کل یکی نے ایک مشہور اعصابی بیماریوں کے ماہر سے مشورہ لیا کہ اگر تشخیص کے بعد ڈاکٹر وہاں علاج تجویز کر دیں اور میں واپس آنا مفید سمجھوں تو کیا ان کے نزدیک باقی علاج کراچی میں ہو سکے گا۔تو انہوں نے جواب دیا۔کہ جب مکمل تشخیص کے بعد نسخہ بھی وہ تجویز کر دیں تو ان کی اجازت اور حالات کے مطابق اگر میں کراچی آجاؤں تو بقیہ علاج وہ امید کرتے ہیں یہاں ہو سکے گا۔مگر اس میں استحصار وہاں کے ڈاکٹروں کی رائے پر کرنا چاہیئے۔اگر جماعت کے احباب کی دعائیں اللہ تعالیٰ سُن لے تو کوئی تعقیب نہیں۔ایسی صورت نکل آئے کہ میں چند دن یا چند ہفتے اس وقت کے قیاس سے پہلے آسکوں۔والعلم عنداللہ گو زور ان کا یہی ہے کہ وہاں کی آب وہوا سے فائدہ اٹھانا چاہیئے جو اس مرض کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔بعض علاجوں کے متعلق انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ سخت تکلیف دہ ہیں۔اگر وہاں کے ڈاکٹر وہ علاج تشخیص کریں تو اس سے انکار کر دیا جائے۔اور کہا جائے کہ ہم یہ علاج کراچی میں کروالیں گے۔جہاں یہ سب سامان موجود ہے۔مگر ان کی رائے یہی ہے کہ ایسے سخت علاج کی ضرورت پیش نہیں آئے