تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 504
رہنا اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی اُمت کی اصلاح اور بہبودی کی مغرض سے درود بھیجتا ہے اور غور کیا جائے تو یہی دو چار ستون ہیں جن پر ایک مومن کے ایمان اور اس کی سعی و جہد کا استحصار ہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ ان ایام میں خاص طور پر دعاؤں اور صدقہ و خیرات سے کام لیں اپنے اندر تقویٰ اور طہارت نفس پیدا کریں اور اپنے ہمسایوں اور ماحول کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک بلکہ غیر معمولی احسان سے پیش آئیں۔ان اور اتحاد اور تعاون با ہمی کا کامل نمونہ دیکھا گئیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جو اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے خلاف اور موجودہ ملکی حالات میں حکومت کے لئے کسی جہت سے پریشانی کا باعث ہو۔وکان الله معنا و محكم اجمعين۔دالسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۱۸ ر ا پریل ۱۹۵۵ ء۔هر ۰۷ ۱۹۰۸ اپریل شده و بمطابق ۹۰۸۰۷ شهادت ۱۳۳۲ پانچواں پیغام کور بوہ میں جماعت احمدیہ کی چھتیسویں مجلس مشاورت کا انعقاد میل مورخه ۶ را پریل ۱۹۵۵ء میں آیا۔اس دفعہ کی یہ مجلس ہے رونق سی تھی کیونکہ حضور اس وقت سفر یورپ سے قبل کہ اچھی میں رونق افروز تھے۔حضرت مصلح موعود کو اس کا پوری شدت سے احساس تھا اور اسی لئے حضور نے مناسب سمجھا کہ ایک تحریر کے ذریعہ سے نمائندگان جماعت کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازیں اس غرض کے لئے حضور نے حسب ذیل پیغام لکھوایا جو مشاورت کے اجلاس دوم میں مرزا عبد الحق صاحب (امیر صوبائی پنجاب ) صدر مجلس مشاورت نے پڑھ کر سنایا یے أعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تحدة ونصلى على رَسُولِيهِ الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّ سامير احباب جماعت احمدیہ ! السلام عليكم و رحمة الله وبركاته پہلی بات تو میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ شوری میری غیر حاضری میں آرہی ہے۔پہلے سال میں بوجہ زخم کے میں شورٹی میں پورا حصہ نہیں لے سکا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مشق کروادی مگر میں محسوس الے روزنامہ المفضل ربوہ ۲۱ اپریل ۹۵۵ اوج سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۵ء مکتا ۹۔