تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 503 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 503

امام اس دلیل قسم کی فتنہ انگیزی اور افتراء پردازی کے جواب میں جو ایسے وقت میں کی جارہی ہے جبکہ ملکی حالات ہر قسم کے ختنہ پیدا کرنے والے انتشار سے قطعی اجتناب کے متقاضی ہیں۔ان مخالف حضرات سے تو صرف اس قدر عرض کرنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ بہر رنگے کہ خوا ہی جامعه می پوش من انداز قدت را می شناسم یعنی اسے ہمارے مہر بانو با تم جس رنگ کا بھی جامہ پہننا چا ہو پہن لو ہم تمہیں تمہارے لباس کے رنگ سے نہیں بلکہ تمہارے قدوقامت کے انداز سے پہچانتے ہیں کہ اللهم انا نجعلك في نحورهم وتعوذ بك من شرورهم ونتوكل عليك ولا حول ولا قوة الا بك۔باقی رہا جماعت کا سوال سو علاقہ دار امراء اور صدر صاحبان کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقہ میں ناواقف اور دور افتادہ دوستوں کو اس قسم کے فتنوں کے متعلق با خبر اور ہوشیار رکھیں اور انہیں بتا دیں کہ یہ سب جھوٹا اور مفتریا نہ پراپیگنڈا ہے جو بعض مخالفین کی طرف سے جماعت اور مرکز کے خلاف کیا جا رہا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ یہ پراپیگنڈا ان خدشات کی عملی تصدیق ہے جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیزہ نے سفر پر جانے سے قبل جماعت پر ظاہر کر کے اسے متنبہ کیا تھا کہ امام کی غیر حاضری میں اس قسم کے فتنے اُٹھ سکتے ہیں۔جماعت کو اس خطرہ کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ہماری جماعت خدا کے فضل سے اور حضرت افضل الرسل محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہاتھ پر جمع ہوکر اخوت اور اتحاد اور راستی اور صداقت کے طریق پر قائم ہے اور ہر قسم کے فتنوں سے الگ رہ کر امن اور آشتی کے رنگ میں اسلام کی خدمت بجا لانا چاہتی ہے اور یہی اس کا واحد مقصد و منتہا ہے پس ہمیں چاہیے کہ ہر قسم کی انتشار پیدا کرنے والی باتوں سے الگ رہ کر اپنی پوری توجہ اور پوری کوشش اور پوری طاقت کے ساتھ اس مرکزہ می نقطہ پر قائم رہیں جو خدائے علیم و قدیر نے ہمارے لئے مقرر فرمایا ہے اور جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے اس مقصد کے حصول کا طریق صبر و صلوٰۃ ہے۔صبر کے معنے ایک طرف دوسروں کے مظالم پر ضبط نفس سے کام لینا اور دوسری طرف نیکیوں پر مضبوطی کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہے۔اور صلواۃ کے معنی ایک طرف اپنی کوششوں کی کامیابی کے لئے خدا سے دردمندانہ دعائیں کرتے