تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 502
۴۸۰ فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس قسم کی افواہوں کے متعلق بھی جماعت کے ذمہ دار طبقہ بلکہ ہر احمدی کو ہوشیار رہنا چاہیے جیسا کہ شخص جانتا ہے حضور کا یہ سفر حلاج اور صحت کی غرض سے ہے اور ایسے موقعہ پر عزیزوں کی معتدبہ تعداد اور مناسب عملہ کو ساتھ لے جانے کا خیالی آنا ایک طبیعی امر ہے اور آپ تو ابتدائی تجویز شدہ تعداد میں آخری نظر ثانی کے وقت کافی کمی بھی کی جار ہی ہے۔بہر حال اس قسم کے سفر کو جو خالصہ علاج اور صحت کی غرض سے اختیار کیا جارہا ہے۔بے بنیادا فواہوں کا نشانہ بنانا اس گندی ذہنیت کا مظہر ہے جو بد قسمتی سے ملک کے ایک طبقہ میں ہمارے متعلق پائی جاتی ہے مگر یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ خدا کے فضل سے ملک کا شریف اور سمجھ دار طبقہ اس قسم کے خلاف اخلاق رجحانات سے پاک ہے اور بعض عقائد میں اختلاف کے باوجود ہمارے ساتھ انصاف اور ہمدردی کا رویہ رکھتا ہے چنانچہ موجودہ بیماری میں بھی کثیر التعدا د خیر احمدی اصحاب نے حضرت صاحب کی عیادت میں حصہ لیتے ہوئے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اللہ تعالی انہیں جزائے خیر دے اور ہمارا اور سب بہی خواہاں ملک و ملت کا حافظ و ناصر ہو۔آمین خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۳ را پریل ۱۹۵۵ بوسه (۳) پنجاب اور کراچی کے بعض اخباروں میں اس قسم کے فتنہ انگیز نوٹ شائع ہوئے ہیں کہ امام جماعت احمدیہ کے ربوہ سے تشریف لے جانے کے بعد ربوہ میں نعوذ یا مٹر پارٹی بازی اور سازشوں کا میدان گرم ہے اور مختلف پارٹیاں اقتدار حاصل کرنے کے لئے کوشش کر رہی ہیں اور نوجوان سروں پر کفن باند ھے پھرتے ہیں اور ہر لحظہ خون ریزی کا خطرہ ہے وغیرہ وغیرہ جماعت کے احباب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ رپورٹیں از سرتا پا افتراء اور سو فیصد جھوٹ ہیں۔جو ہمارے ایسے مخالفین نے جنہیں جھوٹ سے کوئی پر ہیز نہیں اپنے قدیم طریق کے مطابق حضرت خلیفہ آج الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی غیر حاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فتنہ پیدا کرنے کی غرض سے مشہور کرنی شروع کی ہیں تا کہ ایک طرف تو جماعت کمزور ہو رہی ہو اور دوسری طرف خود جماعت کے سادہ لوح اور نا واقف طبقہ کے دلوں میں یہ گھیرا ہٹ اور بے چینی پیدا کی جائے کہ نہ معلوم جماعت کے مرکز میں کیا ہو رہا ہے جس سے ہم دور افتادہ لوگ بالکل بے خبر ہیں۔له - روزنامه الفضل ربوه ۵ اپریل ۱۹۵۵ ء ما