تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 481 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 481

الم اور جماعتی ترقی کے لئے جس غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے وہ قائم رہے چونکہ سکہ کی دقتیں یورپ کے سفر میں ہمارے راستے میں اس قدر روک نہیں ہوں گی جس قدر امریکہ کے سفر میں ہو سکتی ہیں۔اس لئے اس سفر کے لئے ممکن ہے کہ اگر سلسلہ کے پاس روپیہ ہو تو گورنمنٹ کے طرف سے غیر ملکی سکہ مل جائے یا اگر ہماری افریقہ کی جماعتیں اخلاص کا ثبوت دیں تو غیر ملکی سکہ کی بہت سی مشکلات اِن کے ذریعہ سے پوری ہو جائیں گی کیونکہ ان کے پاس وہی سکہ ہے جو یورپ میں چلتا ہے جب میں سہ میں انگلینڈ گیا تھا تو ہندوستان کی مالی حالت بہت خراب تھی اور بند دستانی جماعت اخراجات سفر به داشت نہیں کر سکتی تھی اس وقت زیادہ ایسٹ افریقہ عراق اور چند اور غیر ممالک کے احمدیوں نے اکثر حصہ بوجھے کا اٹھایا تھا۔قادیان کی انجمن ہمارے کھانے پینے کے لئے بھی خرچ نہیں بھجوا سکتی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے افریقہ اور عرب کی جماعتوں کے اندر اس قدر اخلاص اور ایمان پیدا کر دیا کہ سارے قافلہ کے کھانے اور تبلیغ کا خرچ نہیں ادا کرتا تھا یا یوں کہو اللہ تعالے میرے ذریعہ سے ادا کرتا تھا۔واقعہ اس طرح ہوا کہ میں نے مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ایسٹ افریقہ کے چند دوستوں کو لکھا کہ مجھے سفر کی ضرورتوں اور جماعت کے وفد کے اخراجات کے لئے کچھ انگریزی سکہ قرض کے طور پر دیدیں۔وہ آدمی تو تھوڑے سے تھے مجھے یاد ہے کہ اس وقت تک ایسی حیثیت کے آدمی چند تھے۔جہاں تک مجھے یاد ہے میاں اکبر علی صاحب بستید معراج الدین صاحب اور بابو محمد عالم صاحب مبا سوی ایسی حالت میں تھے کہ کچھ قرض دے سکیں لیکن ایمان دنیا کے خزانوں سے بڑا ہوتا ہے ایمان نے ان کی تمام مالی کمزوریوں کو دور کر دیا مجھے یاد ہے کہ بابو اکبر علی صاحب نے اپنی نتجارت کا ایک حصہ نیلام کر دیا اور روپیہ مجھے قرض بھجوا دیا چونکہ یہ جماعتی حساب میں تھا جماعت نے ادا کر دیا مگر اس وقت ایک عجیب لطیفہ ہوا جو خدا کی قدرت کا نمونہ تھا۔عراق میں ہمارے صرف ایک احمدی دوست تھے اور اُن کی مالی حالت کچھ اچھی نہیں تھی میں نے اُن کو خط لکھا انہوں نے اپنے کسی اور دوست سے ذکر کر دیا ایک دن لنڈن کے ایک بنک نے مجھے اطلاع دی کہ تمہارے نام اتنے سو پونڈ آیا ہے۔میں نے سمجھا کہ قادیان نے مبلغین کے قافلہ کا خرچ بھیجوایا ہے لیکن دریافت کرنے پر بینک نے بتایا کہ قادیان یا ہندوستان سے وہ روپیہ نہیں آیا بلکہ عراق سے آیا ہے میں نے بیت المالی قادیان کو اطلاع دی کہ آپ لوگوں نے قرض کی تحریک کی تھی اور میں نے بھی اس کی تصدیق کی تھی اس سلسلہ میں روپیہ آنا شروع ہوا ہے آپ نوٹ کر لیں اور چونکہ بعد میں ادا کرتا ہے اور عراق کا پتہ ان کو بنا دیا