تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 480
سر کے اوپر بھی اور دل کے اندر بھی ہے۔ہر ایک شخص جو میری طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور جو مجھ پر زبان چلاتا ہے خدا کی طرف چلاتا ہے اس کی ماں اسے نہ جنتی تو اچھا تھا۔اسکی درد ناک حالت پر فرشتے رحم کریں۔دستخط مرزا محمود احمد الله جدید حضرت مصلح موعود کو جماعت احمدیہ کے ہر فرد سے روح پرور پیغامات کا جدید سلسلہ بے مثل محبت تھی جو اپنی ذاتی تکلیف کے ہر موقعہ پر بھی ایک تیز فوارہ کی طرح پھوٹ پڑتی تھی یہی وجہ ہے کہ اس بیماری کے اثرات جتنی شدت کے ساتھ ظاہر ہوئے اتنے ہی شدید احساسات ایک روحانی باپ کی حیثیت میں آپ کے شفیق و حلیم دل میں جماعت کے لئے پیدا ہو گئے اور آپ نے مخلصین جاموت کو حالات سے برابر مطلع رکھنے کے لئے پیغامات کا ایک نیا سلسلہ جاری فرما دیا۔۔اس تعلق میں حضور کی طرف سے اور مارچ 1940ء کو پہلا پیغام جو دیا پہلا پیغام گیا۔اس میں آپ نے اپنی بیماری کی نوعیت اور ڈاکٹروں کی رائے کا مورخه از ماری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- برادران! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکانه۔ڈاکٹری مشورہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ میں اہل وعیال اور دفتری عملہ کو لے کر کچھ عرصہ کے لئے یورپ چلا جاؤں تاکہ جلدی اس مرض کی روک تھام ہو جائے پہلے امریکہ کا خیال تھا مگر چونکہ امریکہ کا ایک چینج نہیں ملتا اس لئے اس ارادہ کو چھوڑنا پڑا لیکن یورپین علاقہ میں انگریزی سکہ چل جاتا ہے اور برطانوی کامن ویلتھ کے مختلف علاقوں میں ہماری جماعت خدا کے فضل سے کافی تعداد میں موجود ہے مثلاً افریقہ کے کئی علاقے وغیرہ وغیرہ۔اس لئے یورپ جانے میں مشکلات بہت کم ہیں۔میں نے عزیزم چودھری ظفر اللہ خانصاحب کو مشورہ کے لئے تار دی تو انہوں نے تار میں جواب دیا کہ خدا کے فضل سے یورپ کے بعض ممالک میں علاج کی بہت سی سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں اور کامل سامان مل سکتا ہے اس لئے پیشتر اس کے کہ تکلیف بڑھ جائے میں یورپ چلا جاؤں اور وہاں کے ڈاکٹروں سے علاج کراؤں تاکہ میں اچھا ہو کہ خطبہ بھی دے سکوں۔تفسیر بھی مکمل کر سکوں له روزنامه الفضل ربوه ۱۷ مارچ ۶۱۹۵۵ ص۲ |