تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 467
۴۴۷۔۔موجب تم خود ہو۔خدا تعالے بناتا ہے تم ضائع کرتے ہو۔وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء: () بیماری تم خود لاتے ہو شفا خدا تعالے دیتا ہے۔پس جب بھی کوئی کام ٹوٹے گا تمہاری طرف سے ٹوٹے گا اور جب بھی کوئی کام بنے گا تو وہ خدا تعالیٰ بنائے گا۔اگر تم یہ نکتہ سمجھ لو تو تمہاری حالت بدل جائیگی۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے میں تین میری عادتیں ہیں جن کو ترک کرنے کی میں اپنے اندر طاقت نہیں پاتا۔آپ کوئی ایسا طریق بتائیں جس کے اختیار کرنے سے میں اِن بُری عادات سے چھٹکارا حاصل کر سکوں۔ان تین برسی عادات میں سے ایک جھوٹ بھی تھا۔آپ نے فرمایا تم میری ایک بات مان لو۔دو کا میں ذمہ لینا ہوں تم ایک عیب چھوڑ دو یعنی جھوٹ بولنا۔اس نے کہا بہت اچھا اور چلا گیا۔کچھ مدت کے بعد وہ شخص دوبارہ آیا۔آپ نے دریافت فرمایا آپ تمہارا کیا حال ہے۔اس نے کہا یا رسول اللہ جھوٹ کے چھوڑے سے سارے عیب چھوٹ گئے۔میں جب بھی کوئی غلطی کرنے لگتا تو خیال آتا تھا کہ میں لوگوں کو کیا جواب ڈونگا ؟ اگر سچ بولوں گا تو لوگ میرا پھل کہیں گے اور اگر جھوٹ ہوں تو اپنا عہد توڑوں گا۔اس طرح محض جھوٹ نہ بولنے کی برکت سے میں سب عیوب سے نجات پا گیا ہوں۔اسی طرح اگر تم اس سال محض یہ عہد کر لو کہ ہم نے محنت کرنی ہے اور ہماری محنت سے ہی اعلی نتائج پیدا ہوں گے اور اگر ہمارے کسی کام کے اعلیٰ نتائج پیدا نہ ہوئے تو ہمیں اقرار کرنا ہو گا کہ ہم نے محنت نہیں کی یا کوئی حماقت کی ہے جس کی وجہ سے ہماری محنت کا صحیح نتیجہ نہیں نکلا تو تمہاری کایا پلٹ سکتی ہے پس تم یہ سال اس نئے ارادہ اور عزم سے شروع کرد۔اس نتیجہ میں تم اگلا سال اس سے بھی نیک اور اعلیٰ ارادہ سے شروع کرو گے اور تم اپنے ایمانوں میں ایسی پختگی دیکھو گے جس کو کوئی شخص توڑ نہیں سکے گا اللہ اس خطہ کی نیست حضور نے یہ ہدایت فرمائی کہ ہر جماعت جمعہ میں یہ خطبہ سنائے اور پھر تمام افراد سے عہد لے کہ وہ صحیح محنت کی عادت ڈالیں گے اور اپنے دعوئی کو تب سچ سمجھیں گے جب اس کے اعلیٰ نتائج نکلیں۔اگر اعلیٰ نتائج نہ نکلیں تو اقرار کریں گے کہ انہوں نے صحیح محنت نہیں کی 2 له روزنامه الفضل ربوه ۲۶ جنوری ۱۹۵۵ اور صلح ۱۳۳۲ ریش مث کے۔روزنامہ الفضل " ریوه ۲۶ جنوری ۱۹۵۵ و صلح ۱۳۳۲ پیش ص۳