تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 466 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 466

کے مربیہ جماعت میں داخل ہونے لگے تو انہیں ہماری جماعت سے بغض پیدا ہو گیا کیونکہ ہماری وجہ سے اُن کی آمدن کم ہوگئی۔کمجا تو اُن کی یہ حالت تھی کہ اس علاقہ میں ان کی تیری عزت اور قدر کی جاتی تھی اور کجا یہ کہ جب اُن کے تمام مرید احمدی ہو گئے تو انہیں رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی۔آخر ایک دوست صالح محمد صاحب نے انہیں اپنے بنگلہ میں ٹھہرایا اور پھر وہ اپنے وطن واپس چلے گئے۔غرض اللہ تعالیٰ احمدیت کی تائید میں ہمیشہ نشانات دکھاتا چلا آرہا ہے کہ فصل پنجم خلافت ثانیہ کا بیالیسواں سال ۱۳۳۳ ۱۹۵) اس باب کے ساتھ ہم خلافت ثانیہ کے بیالیسویں سال میں قدم رکھتے ۱۹۵۵ء کا پہلا خطبہ جمعہ ہیں۔۱۹۵۵ سید نا حضرت مصلح موعود کا ہمیشہ یہ طریقہ تھا کہ ہر سال کے شروع میں جماعت کو اس کی بڑھتی ہوئی نئی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے تھے۔اس دستور کے مطابق حضور نے سال نو کے پہلے خطبہ مسجد د فرموده ، جنوری شام میں مخلصین کو تحریک فرمائی کہ وہ نئے سال کو اس عزم اور ارادے کے ساتھ شروع کریں کہ ہم نے محنت کرنی ہے اور ہماری صحت ہی سے اعلیٰ نتائج پیدا ہوں گے اور واضح فرمایا کہ محنت اور قربانی کے بغیر خدا تعالے کی مدد نہیں آیا کرتی چنانچہ فرمایا :- تم یہ ارادہ کر لو کہ تم اس سال میں ہر جگہ شور مچاؤ گے کہ عمل کرو۔عمل کرو۔عمل کرو اور یہ خیال دل سے نکال دو گے کہ تمہارے کاموں کا خراب نتیجہ خدا تعالے کی طرف سے نکلتا ہے۔اگر تم سچی محنت کرو گے تو لازمی طور پر اس کا اعلی نتیجہ نکلے گا اگر تمہارے کسی کام کا برا نتیجہ نکلتا ہے تو اس کا ل الازبار لذوات الخمار حصہ دوم ملا مرتبہ حضرت سیده مریم صدیقه مصاحبه صدر لجنہ اماء الله مر کز ید۔i ! i