تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 465 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 465

۴۴۵ پیر نورالدین صاحب کے تمام مرید سوائے چند ایک کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے داخل بس ملاحظہ ہو گئے۔فالحمد لله رب العلمين؟ نه حضرت مصلح موعوددؓ نے اجتماع انصار الله مرکز تیر ۱۹۹۶ء کے دوران فرمایا :- آج کل ضلع جھنگ کے بعض نئے احمدی ہوئے ہیں ان میں سے ایک مولوی عزیز الرحمن صاحب ہیں جو عربی کے بڑے عالم ہیں " سے مولوی عزیز الرحمن صاحب کا قبول احمدیت اور آپ کے ذریعہ سے پیر منور الدین صاحب کے قریبا تمام مریدوں کا نور احمدیت سے منور ہونا تائید الہی کا چمکتا ہوا نشان ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں :- یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے زمانہ میں یہ علاقہ جس میں ہما را مرکز ہے اس میں کوئی احمدی نہیں تھا۔آپ کی وفات کے قریب عرصہ میں یہاں صرف ایک احمدی تھا لیکن اب ضلع جھنگ میں ہزاروں احمدی موجود میں 19ء میں جبکہ ہم ہجرت کر کے یہاں آگئے تھے۔اس علاقے کے صرف پانچے چھ احمدی تھے اب دو تین ہزار احمدی ہوچکا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت میں داخل ہو نیوالے ایسے آسودہ حال لوگ ہیں کہ حیرت آتی ہے کہ اللہ تعالے نے کسی طرح ان مال دار دن کو احمیت کی طرف ہدایت دیدی۔ملاقات کے وقت ہر شخص جو اس علاقہ کا آتا ہے اس سے دریافت کیا جائے کہ تمہاری کتنی نہ مین ہے تو وہ کہتا ہے ۱۰ مریعے یا ۲۰ مریعے یا ہم مریعے اور اس وقت مریعے کی قیمت ۱۵۰ ہزار روپیہ ہے بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کے پاس آٹھ سریعے سے کم زمین ہوتی ہے، اگر ٹوٹل کیا جائے تو میرے خیال میں یہاں ایک ہزار مربع جماعت کا ہو گیا ہے گویا پانچ کروڑ کی جائیداد صرف اس ضلع میں پیدا ہوگئی ہے اور یہ انقلاب ایک تھوڑے سے عرصہ میں ہوا ہے۔صرف تین سال کی بات ہے کہ جب یہ انقلاب ہوا۔اب دیکھ لو یہ معجزہ ہے یا نہیں۔پہلے اس علاقہ میں جس میں احمدی نہیں ایک پیر منور الدین صاحب تھے۔وہ قادیان بھی گئے تھے۔واپس آکر انہوں نے اپنے مریدوں کو کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب کی بات سچی معلوم ہوتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام یقینا وفات پا گئے ہیں مگر جب اُن ے قبول احمدیت کی داستان از الحاج مولوی عزیز الرحمن صاحب مشکل ص ۱۰ مش ناشر مکتبہ سلطان مقام ربوه۔له الفضل ريوه ۲۷ مارچ ۶۹۵۶ م۔