تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 464 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 464

اپنے پاس رکھتا تھا۔اور اس کا بار بار مطالعہ کرتا تھا۔شن رکھا تھا کہ خانہ کعبہ پر پہلی بار نظر ڈالنے کے وقت جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔بہزاد و دعائیں مانگین۔دا، خدا یا عمر بھر جو دعا مانگوں قبول فرمانا۔(۲) جماعت احمدیہ قادیان میں شامل ہو نا اگر تیری رضا کا موجب ہے تو مجھے ضرور داخل فرمانا۔یوں تو بیت الله مدینه منوره - منی ونات و غیره تمام مقامات مقدسہ پر دعائیں کیں لیکن یوم عرفہ یعنی حج کے دن تو خصوصاً دعا کا موقعہ ملا۔عرفات کے میدان میں تقریبا آٹھ تو بجے پہنچ گیا تھا۔دوپہر کے بعد ظہر و عصر جمع کر کے احرام کی حالت میں ایک مشکیزہ پانی کا کندے پر ڈالے اور کاپی دعاؤں کی ساتھ لئے ایک چھتری لے کر جیل رحمت پر چڑھ گیا۔جہاں حضرت سرور کائنات علیہ الصلوۃ والسّلام نے خطبہ دیا تھا۔خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے اس مقام پاک پھر حج کے دن کھڑے ہو کہ قرآنی دعاؤں اور احادیشی دھاریں کے ساتھ ساتھ اپنے خدا سے یوں مخاطب ہوا۔مولا کریم میں گنہگار پاکستان سے تیرے اس متبرک مقام پر اس لئے آیا ہوں کہ میرے گناہ پخش اور اگر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی تیرا سچا مسیح موعود ہے اور اس کی جماعت میں شامل ہوتا ضروری ہے تو مجھے اس جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔اے میرے مالک اگر قیامت کے روز تو مجھ سے سوال کرے گا کہ تو نے مسیح موعود کو کیوں نہ مانا۔تو اس کا ذمہ دار تو ہوگا۔میں رونے گرتے پڑتے تیرے در پر پہنچ گیا ہوں آب آئندہ تو راستہ کھول ، جو حالت دعا اور حالت گریہ اس وقت مجھ پر طاری ہوئی مجھے ساری عمر نہیں بھولے گی۔واپس آکر دو سال متوانتره کرم پیر صاحب سے بحث و مکالمہ ہوتا رہا اور اس عرصہ میں مجھے کئی خوا میں بھی آئیں۔جن کو میں نوٹ کر لیتا۔اور میری عقیدت حضرت خلیفہ آسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوٹا فیوگا بڑھتی گئی۔آخر میں نے حتمی فیصلہ کر لیا۔اور خدا تعالیٰ نے میرے اندر قوت بھر دی کہ خواہ پیر صاحب ناراض ہوں اب خدا تعالیٰ نے عقلی، علمی، روحانی طور پر مجھ پر حجت پوری کر دی ہے اب اگر مداہنت سے کام لوں تو شاید سلب ایمان کا معاملہ نہ ہو جائے۔پس ہو کے جلسہ سالانہ پر یہ خاکسار حضور کی دستی بیعت سے مشرف ہوا۔اور میرے ساتھ رائے احمد بخش ولد احمد منگلا نے بھی بیعت کی۔اور بعد میں خاکسار کے ذریعہ سے در کردم