تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 462 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 462

یہ وجوہ کا فر بنانے کے لئے کافی نہیں۔چونکہ پیر صاحب کی طرف سے حوالہ جات وغیرہ پیش کرنے والا میں تھا مجھے اچھی مزا دلت ہوتی گئی اور مسائل ذہن نشین ہوتے گئے۔ہوتے ہوتے پیر صاحب کے تمام مریدوں کے عقاید سختہ ہو گئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور حضرت مرزا صاحب نیک انسان ہیں لیکن ہمیں ان کی بیعت کی ضرورت نہیں۔اور مرزا صاحب کو نیک بزرگ مانتے ہوئے ہمیں اپنی پیری مریدی کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیئے۔ایک مرید کی دعوت پر پیر منور الدین صاحب سلانوالی تشریف لے گئے۔اور وہاں تقسیم ملک کے بعد کافی مہاجر آباد ہو چکے تھے اور وہ لوگ ہمارے عقاید سے واقف ہو چکے تھے۔انہوں نے ہمیں مرزائی مشہور کر دیا اور ہمارے ساتھ مناظرہ کی طرح ڈالی۔پیر صاحب بھی جو شیلے آدمی تھے انہوں نے لکھ دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اور مرزا صاحب اپنے تمام دعاوی میں بیچتے ہیں۔اس پر مناظرہ رکھا گیا۔انہوں نے راتوں رات مولوی بلوالئے۔ہمیں نہ اس قسم کے مناظروں کا پتہ۔نہ پورے دلائل کا علم بہر حال دوسرے دن عبد اللہ معمار امرتسری ان کی طرف سے مناظر مقرر ہوا۔اور خاکسار عزیز الرحمن پیر صاحب کی طرف سے مناظر مقرب ہوا۔مجھے کہیں سے احمدیہ پاکٹ بک بھی مل گئی۔ویسے بھی وفات مسیح کے دلائل ایک کاپی پر جمع کر رکھے تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مناظرہ بہت اچھا رہا۔اور یہ بھی عجیب قسم کا مناظرہ تھا نہ ہم احمدی نہ لاہوری نہ قادیانی اور وفات مسیح اور صداقت حضرت مرزا صاحب پر مناظرہ کر رہے ہیں۔لیکن اصل میں خدا تعالیٰ ہمیں ٹرینینگ دے رہا تھا، کہ تم نے احمدی بن کر تبلیغ کرنی ہے، ابھی سے تیاری اور مشق کرلو۔انہیں ایام میں ربوہ مرکت و احمد تیت جب ہمارے علاقہ میں آیا د ہونا شروع ہوا اور سرگودھا شہر میں بھی کافی احمدی احباب آگئے تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام تصنیفات اکٹھی کرنی شروع کیں۔برا نہیں احمدیہ حصہ پنجم پڑھی۔حقیقت الوحی پڑھی۔نبوت کا مسئلہ حل ہو گیا۔ان دنوں میں نے مسئله مصلح موعود میلہ خلافت پر دونوں جماعتوں کا لٹریچر پڑھا۔خدا تعالے نے مجھ پر حق واضح کر دیا کہ خلافت بر حق۔اور حضرت مرزا صاحب کی تحریرات کی روشنی میں مصلح موعود میرا پیارا