تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 447
کی مساعی قابل قدر تھیں۔۴۲۷ شاهم مشن : ملک شام کے مشہور اخبار صوت العرب کی ۲۵ دسمبر ۱۹۵۷ء کی اشاعت میں شام کے ممتاز قانون دان محمد آفندی اشوا کا خیال افروز مضمون شائع ہوا جس کا ترجمہ مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے :۔دمشق کے مشہور روزنامہ " العلم " نے اپنی اشاعت مورخہ ۱۹ر دسمبر ء میں اپنے ایک نامہ نگار کی طرف سے مفتی عام دشتی کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے عام الناس کو احمدیت کے قبول کرنے سے روکا ہے کیونکہ مفتی صاحب کے خیال کے مطابق احمدی عقائد قرآن مجید اور سنت کے خلاف ہیں لیکن جناب مفتی صاحب نے احمدیت کے مخالف قرآن و سنت ہونے کے بارے میں کوئی معین چیز ذکر نہیں فرمائی۔چونکہ احمدی لوگ ہی تمام براعظموں میں اسلام کو پھیلا رہے ہیں اور سب کو قرآن کریم اور سنت نبوٹی کی طرف بلاتے ہیں اس لئے میں جناب مفتی صاحب سے التماس کرتا ہوں کہ وہ کم از کم ایک چیز تو ایسی ذکر فرمائیں جو احمدیوں کے عقائد میں داخل ہو۔اور مفتی صاحب اس کے مخالف قرآن و سنت ہونے پر کوئی دلیل قائم کر سکیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسا فتوئی پیش کیا ہے جس پر کوئی دلیل اور برہان قائم نہیں۔گذشتہ دنوں شاہ فاروق کے علیحدہ کئے جانے سے قبل کی بات ہے کہ مصر کے بہت سے مشہور لوگ احمد یوں کو سچا مسلمان قرار دے چکے ہیں جب مصر کے سابق مفتی نے آنریل چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے بارے میں ایک فتوی دیا تھا تو مصر کے مشاہیر نے چودھری محمد ظفر اللہ خان کی تائید میں اور مصر کے سابق مفتی کے خلاف بیانات شائع کئے۔ان مشاہیر میں سابق ترین مفتی علامہ علام لضار الاستاذ محمد ابراہیم سالم چیف جسٹس عدالت عالیہ شرعیہ۔الاستاذ عبد الرحمن عزام سابق جنرل سیکرٹری عرب لیگ اور الاستاذ خالد محمد خالد محترم اور بہت سے دیگر علماء شامل ہیں۔علاوہ ازیں ملک شام میں احمدیت کے ماننے والوں میں تمام مشہور اور قابل ذکر شاہی خاندانوں کے لوگ موجود ہیں۔چنانچہ ان لوگوں میں المالکی العظم - المرادي۔شبيب - المحضى الساعاتي الجيبات