تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 445 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 445

۴۲۵ 1900 ہوئے) نے تقریر کی اور پھر ایک دو اصحاب کو بھی اظہار خیال کا موقعہ دیا گیا۔۲ شواء سے نائیجیریا کے مغربی علاقہ میں جبری تعلیم کا سٹم رائج کیا جار ہا تھا یونٹ کی اس نئی سکیم سے مسلمان سخت پریشان ہوئے وجہ یہ کہ مسلمانوں کے پاس دینیات پڑھانے کے لئے ایسے اساتذہ کا ہونا ضروری تھا جو حکومت کے قانون کے مطابق قابل DUALIFIED توں مگر عملی صورت یہ تھی کہ دینیات پڑھانے والوں میں سے پانچ فیصد لوگ بھی تجربہ کار نہیں تھے جس کے نتیجہ میں یہ خطرہ یقینی نظر آنے لگا۔کہ مسلمان اسکولوں میں دینیات پڑھانے کا انتظام نہ ہو سکے گا اور نائیجیریا کے مسلمانوں کی نئی نسل اپنے مذہب سے بے گانہ محض رہ جائے گی۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے مسلمان اسکولوں کے پروپرائٹرز کا ایک خصوصی اجلاس ہوا۔جس میں مولوی مبارک احمد صاحب سانتی مبلغ نائیجیریا بھی شامل ہوئے اور فیصلہ ہوا کہ حکومت سے پرزور اپیل کی جائے کہ وہ مسلمان سکولوں میں دینیات پڑھانے کا انتظام کرے۔کونسل نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ بہت جلد مسلمان اسکولوں کے لئے دینیات کا نصاب مقر رکھ کے محکم تعلیم میں بھیجا جائے اس بروقت اقدام کا خاطر خواہ اثر ہوا اور حکومت نے بعض ایسے کالج کھولنے کا فیصلہ کر لیا جن میں وبی اور دیگر مشرقی زبانیں پڑھانے کا انتظام کیا گیا تھا اور اُن کے فارغ التحصیل طلبا و حکومت کے ہاں بھی مستند سمجھے جانے لگے یہ سیرالیون مشن:۔اس سال مشن نے مالی تحریکات خصوصا زکوۃ کی وصولی کی طرف خاص توجہ دی جس کے نتیجہ میں بعض دوستوں نے نمایاں قربانی کا نمونہ دکھایا اور ایک گراں قدر رقم چندہ زکوۃ کے طور پر ادا کی۔چنانچہ ایک شامی بھائی ستیدا میں خلیل صاحب اور ایک افریقین بھائی مسٹرسلیمان سے نے سو سو پاؤنڈ پیش کیا۔دو مقامات پر نئی مساجد قائم ہوئیں اور با ما BAMA اور دوسری قالا FALA میں۔اگر چہ قال میں پہلے سے ایک مسجد موجود تھی۔مگر وہ نہایت خستہ حالت میں اور صرف گھاس پھونس کی تھی۔اس سال خدا تعالے کے فضل سے ۵۳ افراد کا جماعت سیرالیون میں اضافہ ہوا جن میں سے ایک " الفصل " ۲۸ تبوک ۱۳۳۳ مش ص۲