تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 438
كوستيدنا تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی نئی اور ان کوستی الاصليه ، رفیق الموعود کے دست مبارک سے تعلیم الاسلام کا میچ ریبوں کی عمارت کا افتتاح نئی عمارت کا افتتاح ہوا۔اس موقعہ پر حضور نے ایک نہایت ہی بیمه و قار تقریب میں کالج کے طلباء سے ڈیڑھ گھنٹہ تک ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا جس میں انہیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے اور اس طرح اپنے کالج کی اسلامی ہدایات برقرار رکھنے کی طرف نہایت موثر پیرائے میں توجہ دلائی اور نصیحت فرمائی کہ اگر وہ اسلامی ضابطہ اخلاق کو ابو مرقسم کے فرقہ وارانہ اختلافات سے لیا ہے، اپنا شعار بنا لیں اور اپنی زندگیوں کو اسلامی رنگ میں رنگین کر لیں تو وہ صحیح معنوں میں ملک و قوم کے معمار کہلانے کے مستحق ہو جائیں گے اور اُن کا نفع رساں وجود قومی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بر پا کرنے کا موجب بن جائے گا۔اس ضمن میں حضور نے علم کی تعریف حصول علم کے ذرائع اور پھر قول و فعل میں مطابقت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور قرآن کریم کے نقطہ نگاہ سے علم کے ہر شعبہ کی اہمیت کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا۔اس تقریب میں اصحاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ مصدر تخمین احمدیہ کے ناظر اور تحریک جدید کے وکلاء صاحیان اسلسلہ کے سب مرکزی تعلیمی اداروں کے ممیران اسٹاف اور بعض دیگر سیقہ جات کے انچارج بھی تشریف لائے ہوئے تھے علاوہ ازیں گورنمنٹ کالج سرگودھا اور اسلامیہ کالج چنیوٹ کے پرنسپل اور سٹاف کے بعض دیگر ممبران نے بھی شرکت فرمائی۔خطاب کے بعد حضور نے کالج کے جملہ طلباء اور باہر سے آئے ہوئے بعض احباب کو شرف مصافحہ بخشا پھر تعلیم الاسلام کالج ہوٹل میں جہانوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا تناول فرمایا اور پھر واپس تشریف لے گئے یہ راس مبارک تقریب کے مفصل واقعات " تاریخ احمدیت جلد نا صفحه ۱۱۴ - ۱۱۸ میں آچکے ہیں۔) ۱۹۵۲ء / ۱۳۳۳ ش میں جماعت احمدیہ کے نشتوں بیرونی مشنوں کی تبلیغی سرگرمیاں اسان اور راجیہ بیان اور مسلمانوں کی خدمات نے کا نور پھیلانے بیجا لانے کی کوششیں برا یہ جاری رکھیں اور اس کے بہت شاندار نتائج پیدا ہوئے۔اس سلسلہ میں بعض مشنوں کے چند ضروری واقعات اور کوائف کا تذکرہ ضروری ہے ۱۹۵۵ له الفضل امراءة۔روداد" الفضل اور مبرا رفتم و حضرت امیر المومنین کی تقریر کا منتن)۔