تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 420
م ر حضرت حافظ احمد دین صاحب ڈنگوی ولی حکیم به بخش صاحب - د ولادت قريبا شهداء بیعت شراء وفات ۱۸-۱۹ نومبر ۴۱۹۵۷ حضرت حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ : جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دھونی فرمایا تو میرے بعد میرے استاد کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ خود قادیان جا کر دیکھا جائے۔۔۔اس وقت ہر جگہ یہ مشہور تھا کہ مرزا صاحب کے پاس کوئی جادو ہے۔جو کوئی بھی قادیان جاتا ہے اسے جادو والی روٹی کھل دی جاتی ہے۔اور پھر وہ بغیر بیعت کئے واپس نہیں آتا۔اس خیال کی بناء پر میں نے اور میرے استاد نے تین چار دنوں کی خوراک اپنے ساتھ لے لی تاکہ قادیان کی روٹی کھائیں ہی نہ۔جب قادیان کی طرف روانہ ہوئے تمام راستے میں یہی سوچتے آئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا کیا سوال کریں گے ؟ جس وقت ہم قادیان پہنچے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السّلام مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور تقریر فرمار ہے تھے۔ہم بھی خاموشی سے مجلس میں جا کر بیٹھ گئے۔مرحوم فرماتے تھے کہ جو جو سوال دل میں سوچ کر گئے تھے۔انہیں سوالوں کا جواب حضور دے رہے تھے۔ہم حیرت سے حضور کا چہرہ دیکھنے لگے اور اسی وقت بیعت سے مشرف ہو گئے۔حضرت حافظ صاحب شروع ہی سے جماعت احمدیہ ڈنگہ کے امیر اور سیکرٹری مال چلے آتے تھے اور وفات تک ان عہدوں پر فائز رہے۔نہایت رقیق القلب ، بہت نیک، پابند صوم و صلواة بلکہ تہجد گزار تھے۔اور اُن کا گھر گویا جماعت ڈنگہ کا مرکز تھا جہاں عیدین ،جمعہ اور پانچوں وقفت کی نمازیں ادا ہوتی تھیں۔بہت سے احمدی بچوں اور بچیوں نے آپ سے قرآن مجید پڑھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت نیک فطرت عطا کی تھی۔علم طلب میں ماہر تھے گو ان کا روزگار۔اس علم پہ نہ تھا مگر ہر وقت مختلف دوائیاں آپ کے پاس رہتی تھیں اور آپ انہیں حاجتمندوں کو مفت دیا کرتے تھے اور اگر کوئی شخص آدھی رات کے وقت بھی آجاتا تو آپ فوراً اُس کے علاج کے لئے مستعد ہو جاتے تھے۔آپ حضرت ڈاکٹر بھائی محمود احمد صاحب مہاجہ قادیان کے حقیقی بھائی تھے یہ حضرت بھائی صاحب نے انشاء له الفضل ۲۱ ستمبر از تبوک اش ۲۵۵