تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 415
۳۹۷ کہ اس اشتہار کے لکھنے والا کون ہے ؟۔میں جج کے سامنے حاضر ہوا مگر اس کو غصے کے اندر کچھ نظر نہ آیا۔پھر میں بیٹھ گیا۔پھر اس نے کہا کہ کس نے یہ اشتہار شائع کیا۔پھر میں اُٹھ کھڑا ہوا اور میں نے کہا کہ یہ اشتہار میں نے شائع کیا ہے۔وہ اپنے غیظ و غضب میں اس قدر بھرا بیٹھا تھا کہ میں با وجود اس کے سامنے دو دفعہ پیش ہونے کے اس کو پھر بھی نظر نہ آیا کہ اشتہار دینے والا میں ہوں۔پھر اس نے تیسری دفعہ کہا کہ کون ہے جس نے یہ اشتہار شائع کیا ہے۔پھر میں اٹھا تو میرے وکیل کالی پرسن نے جج کو مخاطب کیا اور کہا کہ کیا یہ عدالتیں ہیں کہ تین دفعہ میرا موکل کھڑا ہوا ہے اور اُس نے کہا کہ میں نے اشتہار دیا ہے مگر بھیج کو نظر تک نہیں آیا۔اس وقت تمام گیلری کے اندر ایک شور مچ گیا۔اور اس کے ساتھ ایک دوسرا حج اس مقدمے کو سننے کے لئے آگیا۔اس وقت حضرت امام سیدنا مسیح موعود کا لکھا ہوا وہ مضمون پڑھ کر سنایا گیا۔جس کا ترجمہ خواجہ کمال الدین صاحب نے بتا کہ دیا تھا۔تو سارے پادری اور عیسائی حیران رہ گئے کیونکہ اس میں بتایا گیا تھا کہ انجیل بتاتی ہے کہ حضرت میں کے صلیبی زخم تھے جو انہوں نے اپنے حواریوں کو صلیب پر سے زندہ اتنہ آنے کے بعد دکھائے تھے۔اور حواریوں میں سے ایک حواری طبیب بھی تھا جس کا نام لوقا تھا۔الہام الہی کی بنا پر اس مریم کو بنایاگیا تھا۔اور حضرت مسیح کے صلیبی زخم بھی اسی سے اچھے ہوئے تھے۔اس کے بعد اس بات پر بحث ہوئی کہ مریم عینی کا نام کچھ اور رکھ کر اس کو فروخت کیا جائے۔اس وقت ہم نے اپنے وکیلوں کو سمجھا دیا ہوا تھا کہ اگر کوئی ایسی بات پیش ہو جس سے اس مرہم کو دوسرے نام سے موسوم کرنے کے لئے حج اپنا فیصلہ لکھے تو ان کو بتایا جائے کہ اس طرح تو بہت سی دواؤں کے متعلق ہائیکورٹ کو ایک قانون بنانا پڑے گا۔آج عیسائی لوگ مرہم عیسی کے نام سے بھی رنجیدہ ہوتے ہیں تو کل ہند و سوسائٹی سگاؤ زبان کے نام سے بھی رنجیدہ ہوگی۔اور حکومت کی لجسلیٹو اسمبلی کو مندرجہ ذیل دواؤں کے نام بدلانے کے لئے ایک قانون نافذہ کرنا پڑے گا۔کیونکہ ہندو لوگ گاؤ زبان اور گئو دنتی کا لفظ اپنے مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں۔اسی طرح عیسائی عود صلیب اور پنجہ مریم کے نام سے چڑتے ہیں۔اور بھی بے شمار نام ہیں جن کے نام مذہبی نقطہ نظر کے رو سے ہر مذہب والا اس کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔اس لئے یہ قانون نیا بنانا پڑے گا۔کہ یہ یہ دوائیں جو اس نام کی مشہور ہیں ان کا نام بدلنا چاہئیے۔اگر ہائیکورٹ الیسا کوئی قانون بنائے گا۔تو ہم بھی اس مریم کا نام بدل لیں گے۔طب کی کتابوں میں سے نہ یہ نام محو ہو سکتے ہیں۔اور نہ دوسرے کوئی