تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 406
ایک وہم ہوا کرتا تھا کہ ہم قرآن کی آیت کسی عیسائی کے سامنے پیش کریں تو وہ کہ سکتا ہے کہ میرا قرآن پر ایمان نہیں۔ہمارے لئے یہ اتمام حجت نہیں ہو سکتا اس وقت مرے دہم کا لبس حضور نے ازالہ کر دیا حالانکہ شرم کے مارے میں نے سوال پیش نہیں کیا آپ نے اس تقریر کے ضمن میں یہ فرما دیا کہ ہم اس کی پروا نہیں کرتے کہ کوئی یہودی یا نصرانی ہو یا آریہ ہو اور وہ کہ دے کہ قرآن ہمارے لئے حجبت نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارا اس پر ایمان نہیں۔ہم کہتے ہیں کہ وہ وجہ بیان کم وجس سے تمہارا اس پر ایمان نہیں۔اگر وجہ بھی بیان نہ کر سکو اور ایمان بھی نہ لاؤ تو اتمام حجبت تم پر ہوگیا یا تم مدرکہ کے اپنی بریت ثابت کرو یا پھر مان لو تو اگر یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تو اتمام حجبت تم پر ہو گیا۔اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے اور ہم باہر آگئے۔اس کے بعد ایک دفعہ عید کے موقع پر قادیان آیا داس کا سن یاد نہیں) تو حضور نے مسجد اقصی میں عید کے موقع پر فرمایا کہ میرے گاؤں کے جو لوگ ہیں ان کو دعوت جسمانی دی جائے اور اس کے بعد روحانی دعوت دی جائے۔اس پر مولوی محمد احسن امروہوی اور مولوی نورالدین صاحب اُن کو سمجھانے کے لئے لگائے جائیں تو میں نے عرض کیا کہ حضور اس کے لئے مولوی محمد احسن امر وتوی موزوں نہیں ہیں۔مولوی برہان الدین جہلمی موزوں ہیں کہ وہ پنجابی میں تقریر کرتے ہیں۔حضور علیہ السّلام نے میری اس تجویز کو منظور فرمایا اور مولوی به بان الدین صاحب جہلمی نے پنجابی میں تقریبہ کی۔اس روز پچیس آدمی نے بیعت کی اس پر حضور بہت خوش ہوئے لیے - حضرت میرزا محمد رمضان علی صاحب پشاوری ر ولادت قریبا ء بیعت عشاء - وفات ۱۸ جون ۱۹۵۶ یوم آپ نسیبا فاروقی اور مذہب شیعہ تھے۔شروع جوانی میں ہی تکمیل دینیات کر کے صوفیاء کی صحبت اختیار کی۔اصلاح نفس اور صفائی قلب کے واسطے مجاہدات کا آغاز کیا۔کچھ عرصہ علم توجہ کی طرف بھی راغب رہے حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مولانا غلام حسن خان کے فیض اور شاگرد ی کا اثر تھا کہ آپ جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے اور عبادات اور تقوی شعاری تربیت روایات صحابه جلدی صدات هم