تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 405
بٹالہ سے پیدل چل کر نہر یہ نماز ظہر ادا کی عصر کے وقت میں قادیان پہنچا۔مجھے خیال آیا کہ میں مسجد مبارک میں جاؤں اور کسی واقف سے بات چیت کروں۔اس لئے میں سیدھا مسجد مبارک میں آیا جب میں سیڑھیوں کے اوپر پہنچا تو دیکھا کہ حضور کھڑے ہیں۔میں نے السّلام علیکم عرض کیا اور حضور نے مصافحہ کیا اور پیچھے ہٹ کر حضور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کہاں سے آئے۔اس وقت میرے راستے کے سارے شبہات مٹ گئے کیونکہ میں تو یہ خیال کرتا تھا کہ شاید حضور ملیں گے بھی یا نہیں۔مگر یہاں پر اس کے بر خلاف حضور مجھ سے شفقت کی باتیں کرنے لگے حضور نے پوچھا کہ آپ اپنے وطی میں کیا کرتے ہیں میں نے عرض کیا کہ کار ڈنگ روم میں خانساماں ہوں حضور نے وہاں کے کھانوں کی تفصیلات دریافت فرمائیں۔اس کے بعد میں نے بیعت کے لئے عرض کی حضور نے فرمایا کہ آپ نے آگے بیعت نہیں کی تھی میں نے عرض کیا کہ حضور نہیں۔آپ نے مجھے واپس کر دیا تھا۔حضور نے اسی وقت میری بیعت منظور فرمائی۔۔۔۔اس کے بعد میں پھر ایک دفعہ قادیان آیا یہ غالباً نتشار کا ذکر ہے۔قمر الدین صاحب جہلمی گھڑی ساز میرے ساتھ آئے تھے انہوں نے کہا کہ میں بیعت کرنے کے لئے آیا تھا اور اب میرا دل نہیں چاہتا۔تو ہم نے ڈاکٹر عبداللہ کے ذریعے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ملاقات کا کچھ وقت مل جائے۔حضور علیہ السلام نے عصر کے وقت ہمیں وقت عنایت فرمایا اور اندر مکان کے بر آمدے میں بلوالیا۔گرمی کا موسم تھا حضور نے غرارہ پہنا ہوا تھا۔ململ کا کرتہ تھا اور رومی ٹوپی تھی حضور نے فرمایا کہ کیا کہتا ہے۔ڈاکٹر عبد اللہ نے کہا کہ حضور یہ قمر الدین کہتا ہے میں بیعت کرنے کے لئے آیا تھا اور میرا آب جی نہیں چاہتا۔کیونکہ مجھے دل میں قبض ہو گئی ہے حضور نے اس پر فرمایا کہ ہاں ضرور قبض ہونی چاہیے۔کیونکہ ایمان بازار سے نہیں ملتا کہ انسان پھر خرید لے گا مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہاں سے یہ قبض لے کر جائیں گے تو اس میں اور بھی زیادتی ہوگی آپ کو چاہیے کہ جب تک یہ کیفیت دور نہ ہو یہاں سے نہ جائیں کیونکہ جب دنیا کے کام بگڑ جائیں تو تم چھوڑ نہیں دیتے اس کے سنوارنے کی کوشش کرتے ہو اور یہ ایمان کا معاملہ ہے کیا تم سے ایسا ہی چھوڑ دو گے یہ تو ٹھیک نہ ہوگا۔ہم پر وا نہیں کرتے کوئی بڑا سے بڑا عالم جب ہم قرآن پیش کرتے ہیں تو یا وہ اس کا جواب دے گا یا مان لے گا۔دو ہی صورتیں ہیں اگر وہ جواب بھی نہ دے اور مانے بھی نہیں تو شرارت اس کی ثابت ہو جائے گی۔اس پر مجھے بھی