تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 404
اپنوں اور بیگانوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے لیے آپ اپنے قبول احمدیت کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :- میں لالہ موسیٰ میں گارڈنگ روم میں خانساماں تھا اور وہاں سے جہلم سودا لینے کے لئے جایا کرتا تھا۔۱۸۹۳ء میں حضرت مولوی برہان الدین صاحب حیلمی سے قرآن مجید پڑھا کرتا تھا۔وہ اس وقت احمدی تھے۔میں نے ان سے حضور کے دعوئی کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم آپ جا کہ حضرت صاحب کو دیکھو اور اُن سے لو کیونکہ تمہاری مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی کو کہا جائے کہ یہ روپیہ کھرا ہے تو پھر وہ جاکر پتھر پر مارتا ہے تاکہ کھرے کھوٹے کی شناخت کرے تو بہتر یہ ہے کہ تم پہلے جا کہ آپ دیکھ لو اس کے بعد میں چار یوم کی رخصت لیکر قادیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔مغرب کا وقت تھا۔اور حضور مسجد مبارک کی چھت پر تشریف رکھتے تھے۔اس وقت مسجد میں صرف چھ آدمی ہی بیٹھ سکتے تھے اور دو آدمی اس کی منڈیر پر بیٹھ سکتے تھے۔مولا تا حکیم فضل دین صاحب بھیروی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مہر الدین کی بیعت منظور فرمائیں۔حضور نے فرمایا ابھی نہیں۔حکیم صاحب نے پھر اصرار کیا کہ شاید پھر حضور کو فرصت نہ ملے مگر حضور اس پر خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔مولوی برہان الدین صاحب جو قادیان میرے آنے سے پہلے ہی آئے ہوئے تھے وہ بھی اس وقت پاس بیٹھے تھے۔انہوں نے کہا کہ حضور جیسا فرماتے ہیں وہی درست ہے میرے خیال میں میری بیعت اس دن اس لئے نہ لی کہ دوسرے دن عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کی تاریخ تھی۔چنانچہ دوسرے دن حضرت مسیح موعود علیہ السّلام غالباً ظہر کے وقت مسجد میں ایک کاغذ پر ایک مضمون لکھ کر لائے جسے حضور نے مسجد میں پڑھ کر شنایا کہ مجھے اللہ تعالے نے خبر دی ہے کہ آختم نہیں کرے گا کیونکہ اس نے حق کی طرف رجوع کر لیا ہے اور میں پر خار جنگلوں میں چلوں گا نازک پاؤں والے جو میرے ساتھ نہیں چل سکتے وہ ابھی سے علیحدہ ہو جائیں ہے چار دن کے بعد قادیان سے واپس اپنے وطن چلا گیا۔وہاں سے پھر میں تین چار ماہ کے بعد غالباً اگست میں قادیان آیا۔میرے دل میں راستے میں بہت سے شبہات اٹھتے تھے کہ جس کے پاس تم جا رہے ہو وہ شاید ملے یا نہ ملے تو اس صورت میں تمہارے جانے کا کیا فائدہ ؟ پھر میں نے له الفضل ٢٠ جون ١٩٥٣ ء مث۔سے انوار الاسلام ص ۲