تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 399
صاحب جٹ امیر مقامی نے نماز جنازہ پڑھائی اور قیر پر بعد تدفین محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے دعا کرائی بیٹے حضرت میاں فیروز دین منا سیا لکوئی والد میاں گلاب دین مب) ☑ ر ولادت قریبا ع هرا بیعت ۱۸۹۳ء تھے وقات ۲۸ فروری ۶۱۹۵۷ ) آپ کے خاندان میں سب سے پہلے آپ کے دادا میاں نظام الدین صاحب نے احمدیت قبول کی۔آپ جماعت احمدیہ سیالکوٹ کے اُن خوش قسمت صحابہ میں سے تھے جنہیں جنوری ۱۹ء کے سفر جہلم اور اکتوبر 9ء کے سفر سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت کا شرف حاصل ہوا۔سفر سیالکوٹ کے موقع پر آپ حضور کے استقبال کے لئے گوجرانوالہ آگئے تھے۔میاں صاحب موصوف نے ۱۵ جون ۱۹۳۶ء کو ایک بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ :- تمیرے دادا صاحب کا نام میاں نظام الدین صاحب تھا جس زمانہ میں حضرت اقدس علیہ اسلام یہاں ملازمت کے سلسلہ میں تشریف اے تھے میرے دادا صاحب نے انکوھار سال گجر میں کان کرایہ پرے کر دیاتھا حضور علی الصلاة والسلام نے میرے دادا صاحب سے ایک چھ ماشہ کی انگوٹھی بنوا کر بھی گھر بھیجی تھی میرے دادا صاحب کے ساتھ حضر علیہ الصلوۃ والسلام کے گہرے تعلقات تھے۔دادا صاحب کی وفات ہار میں ہوئی۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ جس زمانہ حضرت اقدس یہاں ملازم تھے وہ اتوار کے روز بارہ پچھتر میں جو عیسائیوں کا مرکز ہے کتابیں لے کر بحث مباحثہ کے لئے تشریف لے جاتے تھے جس مکان میں حضور رہتے تھے صرف اس وقت لوگوں کو پتہ لگتا تھا جب کہ حضور کچہری میں تشریف لے جاتے تھے یا واپس آتے تھے۔باقی وقت اندر ہی گزارتے تھے یہاں ایک حکیم منصب علی صاحب رہا کرتے تھے وہ حضرت صاحب سے ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے ایک وفعہ انہوں نے حضور علیہ السّلام کی خدمت میں عرض کی کہ میں کیمیا گری جانتا ہوں اگر حضور چاہیں تو میں سکھانے کے لئے تیار ہوں۔مگر حضور نے فرمایا کہ یہ کیا بلا ہے مجھے اس , ه هفت روزه بدر" قادیان ۲۸ جولائی ۱۹۵۳ء من رم ۲ روایات صحابہ ر غیر مطبوعہ) جلدت ۱۲۵ : کے ریکارڈ بہشتی مقبره الفضل ، نومبر ۱۹۵۴ء من : شه روایات صحابہ جلد نا مث ۱۲ تا ۱۳۰ میں تفصیل ملاحظه موف