تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 398
کہ یہ چند روزہ زندگی تو گزر جائے گی دائمی زندگی کے لئے زاد راہ بنانا ضروری ہے جو اعلائے کلمتہ اللہ کی خاطر تکلیف سہیڑ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت آئے سکا کہ اُحد کے برابہ کی ہوئی قربانی کا وہ ثواب نہ ہو گا جو آج نہایت ہی قلیل قربانی کا ہے اور حضور کے اس ارشاد کی وجہ ایک طرف اس وقت اسلام کی بے انتہار بے چارگی اور دوسری طرف قربانی کرنے والوں کی انتہائی غربت تھی اور وہ گویا بری طرح فاقہ اختیار کر کے خدمت اسلام کرتے تھے اس لئے ان کی قربانی کا مقام نہایت ہی اعلیٰ وارفع اور قابل صد رشک تھا۔حاجی ممتاز علی خاں صاحب کی قربانی کا بھی یہی رنگ تھا۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو قبول فرمایا اور انجام بخیر ہوا۔اور بہشتی مقبرہ ان کا مدفن ہوا۔اس قربانی کی اور بھی زیادہ اہمیت ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نہایت اعلیٰ خاندان کے فرد تھے آپ کے والد بزرگوار مہند دستان کے مایہ نازہ لیڈروں مولانا محمد علی صاحب اور مولانا شوکت علی صاحب کے برادر اکبر تھے۔ان سب کی ذاتی وجاہت کے علاوہ بھی یہ خاندان رامپور میں ممتاز حیثیت کا مالک تھا۔آپ کو بھی ۱۹۴۷ء میں مجبوراً ہجرت کرنی پڑی تھی لیکن پھر ۱۹۳۶ء میں واپس قادیان اس نیست کے ساتھ آگئے تھے کہ قادیان ہی میں ان کو موت نصیب ہو آپ کی وفات ۱۹ جولائی ۱۹۵۴ء کو ہوئی۔اس روز تقریبا بارہ گھنٹے متواتر موسلا دھار بارش ہوئی اور پھر اگلے روز بھی قریبا پانچ گھنٹے بارش ہوئی۔۱۹۴۶ء اور سن ۱۹۵ ء کی بارشوں سے بھی یہ بارش بڑھ گئی اب تو نہ صرف ریل کی بیٹری کی روک بھی تھی کہ اسے کاٹا نہیں گیا تھا اور بو بڑی صاحب کی طرف نہر بھی بن چکی ہے۔باوجود اس کے شہر قادیان نہ صرف مفصلات سے بلکہ باہر کے محلوں سے بھی منقطع ہو گیا تھا ریتی چھلہ سے ریلوے اسٹیشن اور نصرت گرلز اسکول تک پانی ہی پانی تھا اسی طرح بڑے باغ اور بہشتی مقبرہ میں بھی قادیان میں بہت سے مکانات گر پڑے۔موضع رسول پور متصل قادیان کے باشندگان کو کوٹھوں پر پناہ لینی پڑی وہ چاہتے تھے کہ ریلوے لائن کے نیچے سے پانی گزر نے کے لئے زمین کاٹ دیں لیکن پولیس کی طرف سے اجازت نہیں ملی ایسی حالت میں کہ بہشتی مقبرہ کی قبروں کا ایک حقہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا قبر بنانا بہت مشکل تھا چند جوان ہمت دوستوں نے بند باندھ کر قطعہ میں سے پانی باہر نکالا اور بعد وقت قبر کھودی لحد بن نہیں سکتی تھی اس لئے بھیٹے رکھ کر اسے بند کیا گیا۔۲۰ جولائی کو گیارہ بجے قبل دو پر محترم مولوی عبد الرحمن