تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 397
۳۷۹ پورے ہو گئے " تتمہ حقیقة الوحی مشه ) مرحوم کو تبرکات حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔چنانچہ نور ہسپتال میں جہاں آپ اپنی علالت کی وجہ سے مستقل طور پر ابتدا میں بطور کارکن اور جنوری ۱ء سے بطور مریض قیام رکھتے تھے اپنے کمرے میں علاوہ تبلیغی چارٹوں کے نہایت احتیاط کے ساتھ قریباً دو در جن مختلف تبرکات رکھے ہوئے تھے۔لیکن آپ افسوس سے ذکر کرتے تھے کہ تقسیم ملک کے وقت کسی کے سپرد کئے کہ وہ مغربی پنجاب لے جائیں لیکن وہ ضائع ہو گئے۔حاجی صاحب مرحوم ابتداء زندگی میں بطور ڈسپنسر وغیرہ کام کرتے رہے ہیں۔بیمار ہونے کے بعد نہایت عسر کی حالت میں ان کا گزارہ ہوتا تھا۔آپ نہایت تشکرانہ انداز میں حضرت مصلح موعود حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب انچارج نور ہسپتال ) اور محترم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب رسب چارچ نور ہسپتال) کی عنایات مشفقانہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔یہ تنگی عرصہ درویشی میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی لیکن پھر بھی مالی خدمات سلسلہ میں گویا کہ اپنا پیٹ نہایت بری طرح کاٹ کر کرتے تھے پہلے آپ نے بلہ کی وصیت کی ہوئی تھی۔لیکن مئی 192 ء سے اسے بڑھا کر ہے کر دیا تھا۔اس کے علاوہ تحریک جدید ۱۹۵ء میں بھی حصہ لیتے تھے۔اس وقت آپ کو صرف انتیس روپے ماہوار ملتے تھے جس میں سے حصہ وصیت اور چندہ تحریک وضع کر کے اندازہ صرف /۲۳ روپے کھانے پارجات اور دودھ، نائی۔دھوبی و غیر کے لئے بیچتے تھے۔اس سے ان کی مالی قربانی کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ جس مریض کو اپنی مرض کی نوعیت کے باعث اعلیٰ غذا کی ضرورت ہے لیکن اس کے پاس معمولی اخراجات ہی کے لئے بمشکل رقم ہوتی ہے جب وہ قربانی کرتا ہے تو وہ دوسرے ہزاروں روپیہ چندہ دینے والوں سے کہیں بڑھ چڑھ کہ قربانی کر رہا ہوتا ہے۔ہزاروں روپیہ دینے والے اپنی بچت میں سے چندہ دیتے ہیں ان کی رہائش۔پوشاک ، غذا۔اہل و عیال کی آسودگی۔غرضیکہ بالعموم کسی چیز پر بھی ان چندوں کا اثر نہیں پڑتا لیکن ایک شخص کے پاس - ۲۳ روپے ہوتے ہیں کھانے کے لئے پندرہ روپے درکار ہیں اور نائی دھوبی صابن کے لئے تین روپے بقیہ پانچ روپے میں سے ہی اس نے پار چات بنوانے ہیں۔اپنی غذا دُودھ وغیرہ کا بھی خیال رکھتا ہے جو بالکل ناممکن ہے۔ظاہر ہے جو بھی مالی خدمت سلسلہ کی وہ ایسی حالت میں کرتا ہے۔در اصل ٹھو کا ننگا رہ کر اور فاقوں مرکز اور موت سہیٹر کر کرتا ہے اورا سے یقین ہوتا ہے۔