تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 396 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 396

- الحاج ممتاز علی خان حصنا صدیقی درویش قادیان د ولادت قريبا شهداء وفات ۱۹ جولائی ۱۹۵۴) حضرت خانصاحب ذوالفقار علیخان صاحب گوشہر رامپوری کے فرزند ارجمند تھے۔اپنے والد ماجد کے انتقال کے قریباً چار ماہ بعد قادیان میں رحلت کر گئے۔جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے قادیان نے آپ کی وفات پر درج ذیل مضمون سپرد قلم کیا۔19۔حاجی صاحب کو صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو اور آپ کے ایک بھائی ہادی علی خان صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں استواء یا میں مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں تعلیم کے لئے داخل کرا دیا تھا آپ ان خوش قسمت احباب میں سے ہیں جن کا نام رہتی دنیا تک کے لئے حضور کی کتب میں محفوظ ہو گیا ہے۔ایک نشان کے تعلق میں آپ گواہوں کے زمرہ میں شمار ہوئے چنانچہ اس نشان کے گواہوں میں حضرت مولوی نور الدین خلیفہ اول ، حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب - حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت مولوی شیر علی صاحب حضرت قاضی امیرحسین صاحب حضرت سید ناصر شاہ صاحب حضرت حکیم فضل الدین صاحب - بزرگ صاحب مولوی عبد الستار خانصاحب کابلی اور حضرت پیر منظور محمد صاحب کے اسماء بھی مرقوم ہیں بعض طلباء کے نام بھی ہیں۔ان میں کممتاز علی" آپ ہی کا نام درج ہے حضور حقیقۃ الوحی" میں تحر یہ فرماتے ہیں :۔(۷) ساتواں نشان - ۲۸ فروری عشاء کی صبح کو یہ الہام ہوا سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہوگی۔خوش آمدی نیک آمدی چنانچہ یہ پیش گوئی صبح کو ہی قبل از وقوع تمام جماعت کو سنائی گئی اور جب یہ پیش گوئی سنائی گئی بارش کا نام و نشان نہ تھا اور آسمان پر ایک ناخن کے برابر بھی بادل نہ تھا اور آفتاب اپنی تیزی دکھلا رہا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج بارش بھی ہوگی اور پھر۔بارش کے بعد زلزلہ کی خبر دی گئی تھی۔پھر ظہر کی نماز کے بعد یک دفعہ بادل آیا اور بارش ہوئی اور رات کو بھی کچھ برسا اور اس رات کو جس کی صبح میں ۳ مارچ کار کی تاریخ تقی زلزلہ آیا جس کی خبریں عام طور پر مجھے پہنچ گئیں۔پس اس پیشگوئی کے دونوں پہلو تین دن میں