تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 393
۳۷۵ ٹونگا اور حضور اقدس کی شان میں خدا جانے کیا کیا نہ کہوں گا اب تو بر کسی معاملہ ہوا تو وہ کھو گئے اور اس قدیر ہمت نہ تھی کہ مجھے سے بحث کرتے۔مولوی تفضل حسین صاحب مرحوم ومغفور رضی اللہ عنہ حضرت کے بہت پرانے صحابی تھے اور ان کا عشق سلسلہ کے ساتھ مجنونانہ رنگ رکھتا تھا حضرت اقدس علی گڑھ ان کی وجہ سے تشریف فرما ہوئے تھے جو اس زمانہ میں کم نظر آتا ہے بہت ہی محبت سے مجھ سے لے اور فرمایا میرا گھر میں شہر میں ہے کوئی شئے درکار ہو تو منگوا لیا کرتا۔وہ وقت گزر گیا۔پھر اُن سے ملاقات عرصہ تک نہ ہو سکی۔اء میں اکتوبر میں تار پر حکم پہنچنے پر بھون گاؤں تحصیل میں نائب تحصیلدار ہو کر تین ماہ کے لئے گیا۔تحصیلدار مولوی تفضل حسین صاحب تھے۔ہم دونوں کو جو خوشی حاصل ہوئی وہ ہر احدی اندازه کر سکتا ہے تحصیل بہت بڑی تھی بار تحصیلوں سے حدود ملتے تین سال میں چھ ماہ کے لئے دو تحصیلدار دو نائب تحصیلدار رہتے تھے۔اب ہم صرف دو تھے ان کے پاس مقدمات کی یہ کثرت تھی کہ ساٹھ ساٹھ فیصلے روزانہ لکھ کریشنا دیتے تھے۔تحصیل کا سارا کام مجھے پر چھوڑ دیا تھا نہیں نے خدا کے فضل سے تین ماہ میں مال گذاری سب بے باق کرادی اور تمام عملے کا معائنہ کر کے ان کو درست کر دیا۔رشوت کا بازار مرد پر گیا۔حاکم پرگنہ ایک ٹھاکر تھے ان کو اس رقبہ کی روزانہ خبر میں پہنچتی تھیں کیونکہ بڑا حصہ راجپوتوں کی زمینداری کا تھا۔میرے بہت مداح تھے۔میری مدت نومبر کے آخیر میں ختم ہوتی تھی مگر تحصیل میں چارچ لیتے ہی بعد وقت کچہری تحصیلدار صاحب مرحوم نے ازالہ اوہام مجھے دیا اور کہا کہ ہمیں پڑھ کر سناؤ میں اُن کے مردانہ نشست میں رہتا تھا کیونکہ تنہا تھا۔میرے لئے جو مکان تھا۔اسے میں نے استعمال نہیں کیا۔ازالہ اوہام دو تین دن میں ختم کر دی۔یہ پہلی تصنیف حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تھی جو میری نظر سے گذری۔دعوئے مثیل ابن مریم پہ اسی ریاض الاخبار نے شاید میں اعتراض کیا تھا میرے دل میں اُلجھن تھی کہ کسی سے پوچھوں مگر زمانہ نو عمری کا تھا۔طالب علمی کی حیثیت - یو پی میں کوئی ذکر و فکر بھی نہ تھا۔کسی ملاقات میں نہیں نے ایک مرتبہ مولوی تفضل حسین صاحب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا۔انہوں نے رجسٹر بیعت میں آپ کا یوم بیعت ۷ از اپریل شنا درج ہے۔مزید حالات کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد را طبع دوم منها ما -