تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 392
لم کے سر که به شخص متصلح زمانہ آخر ہے۔آپ نہ کوئی مہدی آنے والا ہے ہمیں ستیدا محمد خان بھی مصلح نہیں میں نہیں مر جاؤں تو تم گواہ رہنا۔علی گڑھ کالج شاید میں ایک بار شام کے وقت اپنے وطن کے ایک عربی کے استاد سے جو اسکول میں پڑھاتے تھے اور بورڈنگ میں رہتے تھے۔مولوی خلیل احمد صاحب نام تھا۔ملنے گیا وہ اور مولوی اسمعیل علی گڑھی کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ مرزا غلام احمد صاحب آئے اور یہ ہوا اور وہ ہوا۔کہیں نے بات کاٹ کر پوچھا کہ پہلے مجھے بتا دیجئے کہ حضرت مرزا صاحب ہیں ؟ کہ تشریف لے گئے ؟ مولوی اسمعیل مجھے یہ بتا دیجئے بنتی ہو کہ میری صورت دیکھنے لگا۔نہیں نے کہا کہ مولوی صاحب جواب تو دیجئے تاکہ میں اپنے کام مدنی مصروف ہوں ، آپ اپنا کام کریں۔میرے لہجہ میں وہ تحکم تھا جو کالج کے طلباء اسکول کے استادوں کے ساتھ جائزہ سمجھتے تھے اور چونکہ اس کی تقریبہ میں گستاخی تھی حضرت کی شان میں میں مشتعل ہو چکا تھا اسی نے گھیرا کر کہا کہ وہ آج چلے گئے۔مجھے اس قدر صدمہ ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔میں نے کہا دائے شوعی تقدیر اور آگے کو چھل پڑا اس روز سے میں نے ان سے کبھی بات نہ کی۔کالچ سے نکل کہ ملازمت کی فکر دامن گیر ہوئی۔اٹا وہ گیا اور کالچ کا رنگ لے کر گیا۔لیکچروں ، نظموں اور کھیل و تفریح میں ایام گذاری کی مولوی بشیر الدین صاحب مالک دایڈیٹر " البشير" اٹاوہ کے مکان میں ایک ضرورت خاص سے کچھ دن قیام پذیمہ رہا۔ایک سادہ مزاج انسان ، لباس صاف مگر ساده ، سانولا رنگ، چھریہ جسم متین چہرہ تشریف لائے۔ایڈیٹر صاحب "البشیر نے مجھے سے ان کا تعارف مستہرانہ لب ولہجہ میں کرایا۔آپ قادیانی ہیں تفضل حیدی صاحب شکوه آباد ضلع میں پوری میں تحصیلدار ہیں، میں پہلے تو معمولی طریق سے کھڑے ہو کر مصافحہ کر کے خاموش ہے تعلق سا بیٹھ گیا تھا مگر اس تعارف کے بعد میں کھڑا ہوا اور پھر نہایت ادب سے مصافو کیا اور عرض کیا۔" حضرت مرزا صاحب کا احترام میرے دل میں بہت کائی ہے، عین سعادت ہے کہ آپ کی زیارت نصیب ہوئی " ایڈیٹر صاحب کا چہرہ حیرت کی تصویر تھا منہ کھلا ہوا اور لب خشک۔مجھے گھبرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ان کی حیرت کی وجہ یہ تھی کہ میں اس شہر میں بہترین خوش تقریبہ اور حاضر جواب شوخ طبیعت مشہور تھا۔وہ یقین رکھتے تھے کہ نہیں اس معاملہ میں بہت ستم ظریفی سے کام فتح اسلام کو مطبوعہ ۶۱۸۹۱) صفر (۲۹ تا ۳۳ (ماشیہ میں درج شدہ واقعہ مولوی صاحب موصوف ہی کا ہے۔