تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 386 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 386

بھی عش عش کرتا ہے۔اور میں اُمید کرتا ہوں کہ تم روزانہ اپنی زندگیوں کو اس طرح سنوارتے پہلے جاؤ گے کہ تمہارا خدمت خلق کا کام بڑھتا چلا جائے۔لیکن یہ کام سب سے مقدم ہے کیونکہ اسلام کی خدمت کے لئے تم کھڑے ہوئے ہو۔اور اسلام کی تبلیغ کا دنیا میں پھیلانا۔یہ ناممکن کام اگر تم کر دو گے تو دیکھو کہ آئندہ آنے والی نسلیں تمہاری اس خدمت کو دیکھ کہ کسی طرح تم پر اپنی جانیں نچھاور کریں گی۔کیا آج تم میں سے کوئی شخص یہ خیال کر سکتا ہے ؟ کیا آج ایشیا میں سے کوئی شخص خیال کر سکتا ہے ؟ کیا آج افریقہ کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے ؟ کیا آج امریکہ کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے ؟ کیا آج چین اور جاپان کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے ؟ یا شمالی علاقوں کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ اسلام غالب آجائے گا اور عیسائیت شکست کھا جائے گی۔کیا کوئی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ ربوہ جو ایک کوردہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ایک شور زمین والا جس میں اچھی طرح فصل بھی نہیں ہوتی جس میں پانی بھی کوئی نہیں۔اس ربوہ میں سے وہ لوگ نکلیں گے جو داشنگٹن اور نیو یارک اور لنڈن اور پیرس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔تو یہ تمہاری حیثیت ہے کہ کوئی شخص نہ دشمن نہ دوست ، یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا کہ تم دنیا میں یہ کام کر سکتے ہو۔مگر تمہارے اندر خدا تعالے نے یہ قابلیت پیدا کر دی ہے۔تمہارے لئے خدا تعالیٰ نے یہ وعدے کو دیئے ہیں، بشر طیکہ تم استقلالی کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ اسلام کی خدمت کے لئے تیار ہو۔اگر تم اپنے وعدوں پر پورے رہو۔اگر تم اپنی بیعت پر قائم رہو تو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تاج تم چھین کے لاؤ گے۔اور تم پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پہ رکھو گے۔تم تو چند پیسوں کے اوپر ہچکچاتے ہو۔مگر خدا کی قسم اگر اپنے ہاتھوں سے اپنی اولادوں اور اپنی بیویوں کو ذبح کرنا پڑے تو یہ کام پھر بھی سمٹتا ہے۔پس نو جوانوں کو یہ سوچ لینا چاہئیے کہ ان کے آباء نے قربانیاں کیں اور خدا کے فضل سے وہ اس مقام پر پہنچے۔کچھ ان میں سے فوت ہو گئے اور کچھ اپنا بو حمید اٹھائے پہلے جارہے ہیں۔میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ اب وہ آگے بڑھیں اور اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کر دیں کہ آج کی نسل پہلی نسل سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہے جس قوم کا قدم آگے کی طرف بڑھتا ہے وہ قوم ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتی ہے۔اور جس قوم کی اگلی نسل پیچھے شہتی ہے وہ قوم بھی پیچھے شینی