تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 383
۳۶۵ پنڈت گورکھ ناتھ صاحب ایم ایل اے اور اکالی لیڈر گیانی لاب سنگھ صاحب فخر د دارالا نوار تادیان) نے اپنی تقریر دی میں در دیشان قادیان کے نیک نمونہ ، تعاون اور روادارانہ سلوک کی بہت تعریف کی۔بعد ازاں چودھری اسدالله خان سید اختر احمد صاحب پر و فیسر پٹنہ کالج اور مولوی محمد سلیم صاحب نے غیر مسلم معززین کے جذبات دخیالات کو سراہا اور سردار گورویال صاحب باجوہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی روایات کے مطابق میل جول کا زریں موقع ہم پہنچایا تھا۔قافله پاکستان جو ۲۵ دسمبر ہے بے شب پانچ عبوں پر دارد داران مان ہوا تھا۔احمدیت کے دائمی مرکز کی برکات سے مستفید ہو کہ ۳۰ دسمبر کو بوقت نو بجے صبح قادیان سے روانہ ہوا۔یہ قافلہ آتے دقت دارای نوار میں دائع کو ٹھی ڈاکٹر حاجی خانصاحب کے پاس ٹھہرا تھا اور روانہ بھی نہیں سے ہوا۔درویشوں نے اس کا استقبال بھی تکبیر اور اسلام و احمدیت زندہ باد کے نعروں کے ساتھ کیا اور الوداع بھی ہے قافلہ پاکستان کی واپسی کا نظارہ بڑا رقت انگیز تھا۔ٹھیک انہیں مبارک ایام میں قادیان جلر ربوہ اور حضرت مصلح موعود کی بیر معارف تقاریہ کے دائی کرنے کا طری بادی والا برت کی ربوہ دارالہجرت میں بھی سالانہ جلسہ کا انعقاد ہوا۔اس جلسہ پر نہ صرف علما ، سلسلہ کی ٹھوس علمی تقاریر ہوئیں بلکہ حضرت مصلح موعود نے بھی تین بار خطاب فرمایا - دا، افتتاحی تقریه (۲۶ دسمبر) (۲) مختلف اہم امور سے متعلق تقریبہ (۲۷) دسمبر ) - (۳) "عالم روحانی کے دفائزہ" کے موضوع پر تقریب (۳۸ دسمبر ) حضور انور نے اپنی افتتاحی تقریر میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور افتتاحی تقریب احسان کے ماتحت ایک سال کے بعد پھر ہمیں اس لئے جمع ہونے کا موقع مل ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کا اقرار کریں اور اس کے سامنے اپنی عقیدت کا تحفہ پیش کریں اس نکتہ کی وضاحت کے بعد حضور نے نہایت دلنشیں اور اثر انگیز پیرایہ میں جماعت کو اس کی عظیم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جلسہ کے با برکت ایام کو خشوع اور خضوع اور ذکر الہی سے گزارنے کی ہدایت فرمائی اور اپنے لئے اور اسلامی ممالک کے لئے خصوصی دعا کی تحریک کرتے ہوئے ش اخبار "بدر" "قادیان ۱۴۷ جنوری ۱۹۵۵ ر ( صلح ۱۳۳۴ ش)