تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 362
۳۴۵ تو ہم خدمت خلق کرتے ہیں اور ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں۔مگر ہم ڈھنڈور انہیں پیٹتے کہ ہم نے یہ کیا ہے ہم نے وہ کیا ہے مثلاً ملکانوں کی جو ہم نے خدمت کی اس کے متعلق ہم نے کچھ نہیں کہا۔لیکن دوسرے لوگوں نے اقرار کیا کہ ہم نے بغیر معمولی کام کیا ہے۔مگر ہمارے ان سارے کاموں کے باوجود دشمن نے پھر بھی یہی کہا کہ یہ شروع سے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔بلکہ بعض عدالتوں نے بھی اس کو تسلیم کر لیا۔اور یہ خیال نہ کیا کہ تمام مصیبتوں کے وقت ہمیشہ احمدیوں نے ہی اپنی گردنیں آگے کی ہیں۔میں جب دلی میں جایا کرتا تھا تو اکثر یو پی کا کوئی نہ کوئی رئیس مجھے ملتا اور کہتا کہ میں تو آپ کا اس دن سے مداح ہوں جس دن آپ کے لوگوں نے اپنے ہاتھ سے ایک مسلمان عورت کی کھیتی کاٹ کر اسلام کی لاج رکھ لی تھی۔اور مسلمانوں کی عظمت قائم کر دی تھی۔واقعہ یہ ہے کہ الور یا بھرت پور کی ریاست میں ایک عورت تھی جس کے سارے بیٹے آریہ ہوگئے مگر وہ اسلام پر قائم رہی۔مائی جمیا اس کا نام تھا۔خان بہادر محمد حسین صاحب سیشی حج اس علاقہ میں تبلیغ کے لئے مقرر تھے۔ان کا بیٹا نہایت مخلص احمدی ہے بہر حال جب فصل کٹنے کا وقت آیا تو چونکہ سب گاؤں جو ابقيه حاشيه :-) ہو گئی۔۔۔۔۔۔میر محمد اسحاق صاحب۔۔۔۔۔مہمان خانہ میں اور دیگر مریضوں کی تیمار داری میں مصروف رہے۔اور ہم ارکاکتو بر کو آپ بیمار ہو گئے اس بیماری نہیں دار الفضل میں حکیم محمد زمان صاحب۔بھائی محمود صاحب۔ڈاکٹر محمد اسماعیل خانصاحب نے اور دارای مان میں جناب مفتی فضل الرحمن صاحب ، (مولوی) غلام محمد صاحب، ڈاکٹر عبد اللہ صاحب۔خواجہ شاہ اعجاز علی صفار ،، حکیم محبوب الرحمن صاحب صاحب بنارسی - حکیم اسماعیل صاحب مولوی قطب الدین صاحب نے نہ صرف قادیان میں بلکہ ارد گرد کے دیہات کے مریضوں کا علاج کما حقہ کیا۔اس کے علاوہ تیمار داری میں بہت سے احباب نے مثلاً ھوتی یعقوب صاحب وغیرہ نے حصہ لیا۔اور دوائیاں تقسیم کرنے میں ماسٹر محمد جان صاحب نے بہت کام کیا۔فیض محمد صاحب برکت علی صاحب - مولوی غلام نبی صاحب محمد دین صاحب مولوی فاضل رحمت علی صاحب نے عرق و شربت بنانے میں مدد دی۔جناب ڈاکٹر رشید الدین صاحب کا فیضان عام کربھی جاری دیام شه۔یہ ریاست بھرت پور ہی کا واقعہ ہے (ناقل) : کے اخبار فاروق قادیان ، نومبر تا صد بریکٹ کے الفاظ فقرہ کی تکمیل کے لئے ناقل نے اضافہ کئے ہیں۔