تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 359
۳۴۳ اس دفعہ خدام نے طوفان وغیرہ کے موقعہ پر نہایت اعلیٰ درجہ کا کام کیا ہے۔آپ انہیں اپنے اجلاس میں اس امر پر غور کرنا چاہیئے کہ اس جذبہ کو جو نہایت مبارک جذبہ ہے اور زیادہ کسی طرح ابھارا جائے ؟۔کوئی ایسی خدمت جو صرف رسمی طور پر کی جائے حقیقی خدمت نہیں کہلا سکتی۔مثلاً بعض لوگ اپنی رپورٹوں میں لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے کسی کا بوجھ اٹھایا۔اب اگر تو کسی مجلس کے تمام نوجوان یا باره پندرہ خدام سارا دن لوگوں کے بوجھ اٹھاتے پھرتے ہوں یا کسی ایک وقت مثلاً عصر کے بعد روزانہ ایسا کرتے ہوں یا گھنٹہ دو گھنٹہ ہر روز اس کام پر خرچ کرتے ہوں تب تو یہ خدمت کہلا سکتی ہے۔لیکن اس قسم کی رپورٹ کو میں کبھی نہیں سمجھا کہ اس مہینہ میں ہمارے نوجوانوں نے کسی کا بوجھ اٹھایا۔یہ وہ خدمت نہیں جس کا خدام الاحمدیہ کے نظام کے ماتحت تم سے تقاضا کیا جاتا ہے۔بلکہ یہ وہ نخدمت ہے جس کا بیجا لانا ہر انسان کے لئے اس کی انسانیت کے لحاظ سے ضروری ہے۔در حقیقت مختلف خدمات مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے ہوتی ہیں۔مثلاً جو شخص پاکستان میں رہتا ہے اس پر کچھ فرائض پاکستانی ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔کچھ فرائض ایک انسان ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو کچھ فرائض اس پر سرکاری ملازم ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو کچھ فرائض اس پر ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں۔اگر کوئی پولیس میں ہے تو کچھ فرائض اس پر پولیس مین ہوتے کی حیثیت سے عایدہ ہوتے ہیں۔ایک حیثیت کے کام کو اپنی دوسری حیثیت کے ثبوت میں پیش کرنا محض تمسخر ہوتا ہے مثلاً ایک ڈاکٹر کا یہ لکھنا کہ میں نے ہیں مریضوں کا علاج کیا۔تمسخر ہے کیونکہ اس نے جو کام کیا ہے اپنے ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے کیا ہے۔خدام الاحمدیہ کا نمبر ہونے کی حیثیت سے نہیں کیا۔یا پاکستان کی تائید میں اگر کوئی جلسہ ہوتا ہے یا جلوس نکلتا ہے اور تم اس میں حصہ لیتے ہو اور پھر اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر کرتے ہو تو یہ تمسخر ہے کیونکہ یہ خدمت تم نے ایک پاکستانی ہونے کے لحاظ سے کی ہے۔برکت تمہیں تمھی حاصل ہو گی جب تم اپنی ساری حیثیتوں کو نمایاں کر کے کام کہو گے۔جب تمہیں ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کام کرنا پڑے تو تم پاکستانی حیثیت کو نمایاں کرد۔جب تمہیں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے کام کرنا پڑے تو تم اپنی انسانیت کو نمایاں کر و۔مثلاً اگر کوئی چلتے ہوئے گر